جمعرات، 21 نومبر، 2019

زندگی کے ساڑھے پانچ سال ٹی وی دیکھنے پر صرف کرنے والے پاکستانی



” ٹیلی ویژن کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس کے سامنے بیٹھ کر اپنی آنکھیں اس کی اسکرین پر جمائے رکھنا پڑتی ہیں۔ ایک عام امریکی خاندان کے پاس ایسا کرنے کے لیے وقت نہیں ۔اس وجہ سے اگر کوئی اور نہ ہو تو ،ٹیلی ویژن کبھی بھی ریڈیو کا سنجیدہ حریف نہیں بن سکتا“۔ یہ تبصرہ نیو یارک ٹائمز نے 1939 میں  نیو یارک میں ہونے والے عالمی میلے میں امریکی عوام کے ٹیلی ویژن سے متعارف ہونے کے بعد کیا ۔ لیکن وقت نے اخبار کے اس تبصرے کو غلط ثابت کردیا۔ کیونکہ آ ج وہی امریکی عوام جن کے بارے میں نیو یارک ٹائمز کا یہ کہنا تھا۔ کہ اُن کے پاس ٹیلی ویژن دیکھنے کے لیے وقت نہیں اُنھوں نے 2019 کی پہلی سہ ماہی میں روزانہ اوسطً 4 گھنٹے 27 منٹ ٹی وی دیکھا۔ جبکہ اس وقت12 کروڑ 6 لاکھ امریکی گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود ہے۔ یعنی 30 کروڑ73 لاکھ امریکیوں کو اپنے گھروں میں یہ سہولت دستیاب ہے۔
          ایسی صورتحال صرف اکیلے امریکہ ہی کی نہیں بلکہ پوری دنیا اس وقت ٹی وی کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے۔ یوروڈیٹا ٹی وی ورلڈ وائڈ (Eurodata TV Worldwide ) کے مطابق 2018 میں دنیا کے94 ممالک (جن کا مطالعہ کیا گیا) میں اوسطً 2 گھنٹے 55 منٹ ٹی وی دیکھا گیا۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک مہینے میں ساڑھے تین دن متواتر بغیر کسی وقفے کی طوالت پر مبنی وقت ٹی وی دیکھنے پر صرف کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ 2017 میں دنیا کے1.63 ارب گھروں میں جو کہ عالمی سطح پر 80 فیصد گھر بنتے ہیں ٹی وی سیٹ موجود تھا۔ ترقی یافتہ ممالک کے تقریباً تمام گھروں میں اور ترقی پذیر ممالک کے 69 فیصد گھر یہ سہولت رکھتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں ٹی وی نشریات کے سگنلز پہنچ رہے ہیں۔ اپنی اس قدر رسائی کی وجہ سے ٹیلی ویژن نے دنیا کے ہر معاشرے میں گھر کے ایک فرد کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا عمل دخل ہر سطح پر ہونے والی فیصلہ سازی میں بہت بڑھ گیا ہے۔ جس کے اعتراف کے طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21 نومبر کو ٹیلی ویژن کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان 17 دسمبر1996 کو کیا۔ کیونکہ لوگوں کو مطلع کرنے، عوامی آرا کو متاثر کرنے اور اُس کی تشکیل میں ٹیلی ویژن کو ایک اہم ذریعہ کے طور پر دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے۔
          پاکستان بھی ٹی وی کے طلسم کے حصار میں آنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ جہاںاپریل 2018 میں گیلپ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق ملک میں فی ناظر روزانہ اوسطً تقریباً دو گھنٹے (117 منٹ) ٹی وی دیکھتا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں ٹی وی دیکھنے کے اوسط دورانیہ کا عالمی سطح پر موازنہ کریں تو لندن کے ادارےZenith کی رپورٹ ”میڈیا کنزمشن فورکاسٹ2016 “ (Media Consumption Forecasts 2016) میں موجود اعدادوشمار کے تجزیہ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ٹائم ٹی وی دیکھنے پر سعودی عرب میں صرف کیا جاتا ہے۔جہاں 2016 میں اوسطً 404.7 منٹ روزانہ فی ناظر نے ٹی وی دیکھا ۔دوسرے نمبر پر بو سنیا ہرزگوینیا تھا جہاں یہ دورانیہ 333.2 منٹ روزانہ تھاجبکہ رومانیہ میں یہ طوالت 322.5 منٹ روزانہ تھی یوں وہ تیسرے نمبر پر تھا۔ پاکستان کا اس عالمی درجہ بندی میں 47 واں نمبر تھا۔سب سے زیادہ انفرادی اوسط طوالت پر مبنی ٹی وی دیکھنے والے پہلے دس ممالک میں سے تین کا تعلق اسلامی دنیا سے تھا۔ جن میں سعودی عرب پہلے، کویت 7 ویں اور متحدہ عرب امارات نویں نمبر پر تھا۔
           گیلپ پاکستان کے 2017 ءمیں ہونے والے میڈیا سروے کے مطابق67 فیصد پاکستانیوں نے ٹی وی دیکھنے کا اقرار کیا۔ جن میں سے 74 فیصد  با قاعدہ ناظر تھے اور 21 فیصد کبھی کبھار اور5 فیصد شاذوناد رٹی وی دیکھتے تھے۔ اسی طرح 2017-18 میں ملک میں ہونے والے پاکستان ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق ملک میں 15 سے 49 سال کی عمر کی شادی شدہ خواتین (ever-married women ) کا 50.6 فیصد اور اس ایج گروپ کے شادی شدہ مردوں (ever-married men ) کا 55.4 فیصد ہفتہ میں کم از کم ایک بار ٹی وی دیکھتے ہیں۔ دیہی علاقوں کی خواتین میں یہ تناسب 38.9 اور شہری علاقوں میں 70.7 فیصد ہے۔ اسی طرح شہروںمیں رہنے والے مردوں میں ہفتہ میں کم از کم ایک بار ٹی وی دیکھنے کی شرح 68.3 فیصد اور دیہات میں 46.8 فیصد ہے۔ خواتین میں سب سے زیادہ ٹی وہ دیکھنے کی شرح کا تعلق اسلام آباد سے ہے جو 77.5 فیصد ہے ۔جبکہ سب سے کم خیبر پختونخواہ میں 26.9 فیصد ہے۔ اسی طرح مردناظرین کا سب سے زیادہ تناسب 81.8 فیصدبھی اسلام آباد سے ہی ہے اور سب سے کم 34.1 فیصد بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے۔ملک میں ٹی وی سیٹس کے حوالے سے صورتحال پی ڈی ایچ سروے کے مطابق یہ ہے کہ سال 2017-18 کے دوران ملک کے 62.8 فیصد گھروں میں ٹیلی ویژن سیٹ موجود ہے۔ شہروں کے86.4 فیصد اور دیہات کے48.1 فیصدگھروں میں یہ سہولت دستیاب ہے۔
          ٹی وی اپنے ناظرین کے لیے اطلاعات، معلومات اور تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈورٹائزرز کے لیے اپنے کاروبار یا پروڈکٹ کی تشہیر اور اپنی آرگنائزیشن کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ بلاسطہ اور بلواسطہ طور پر یہ صنعت کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ ٹی وی کی معاشی اہمیت کا اندازہ ان اعدادوشمار سے باخوبی ہوتا ہے کہ2016 میں عالمی سطح پر ٹی وی انڈسٹری کا ریوینیو366 ارب بر طانوی پانڈ سے زیادہ تھااورگزشتہ سال عالمی سطح پر ٹی وی پر چلنے والے اشتھارات کی مجموعی مالیت 200 ارب ڈالر تھی۔پاکستان میں 2017-18کے دوران ٹی وی پر 38 ارب روپے کے اشتھارات نشر ہوئے جو اشھارات کی کل مالیت کا 46 فیصد تھے۔ملک میں ٹی وی پر پیش ہونے والے اشتھارات کا بجٹ 2002 میں محض 2.66 ارب روپے تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک میں پرائیویٹ سٹیلائیٹ چینلز کے لئے ٹی وی انڈسٹری کے دروازے کھولے گئے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگو لیڑی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا اور 2003 میں پیمرا نے نجی شعبہ میں 4 سٹیلائیٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کئے جس سے مذکورہ سال ٹی وی اشتھارات کی مالیت 3.28 ارب روپے ہوگئی اور 2016-17 تک یہ اپنی بلند ترین سطح 42 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی۔
          پیمرا کے آنے کے بعد گزشتہ15 سالوں کے دوران ملک کے الیکٹرانک میڈیا کے منظر نامے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ شعبہ پاکستان کے بڑے شہروں میں براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور آلات کی تنصیب کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا میں کیریئر کے حصول کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے روزگارکے بڑے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان2018-19 کے مطابق اس وقت پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری میں 3.5 ارب ڈالرکی مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگا یا گیا ہے اور یہ شعبہ 2 لاکھ سے زائد لوگوں کو صحافت، منیجمنٹ اور تکنیکی شعبوں میں روزگار فراہم کر ررہا ہے۔ علاوہ ازیں اس سرمایہ کاری سے میڈیا پروڈکشن ہاوسز ، اشتہاری ایجنسیوں کے کام کو بڑھانے اور پرفارمنگ آرٹ کو فروغ دینے پر بھی کئی گنا اثر پڑا ہے۔ملک میں اس وقت 88 سٹیلائیٹ ٹی وی چینلز کے لائسنسز کا اجرا ہو چکا ہے۔ جن میں سے 26 نیوز اور حالاتِ حاضرہ کے ، تفریح (انٹرٹینمنٹ) کے 37 ، علاقائی زبانوں کے18 ، اسپیشلائزڈ سبجیکٹ کے04 ، صحت کا ایک، کھیل کا ایک اور زراعت کا بھی ایک لائسنس جاری کیا گیا ہے۔جبکہ کیبل ٹی وی کے4007 لائسنسز اور انٹرنیٹ پروٹوکول ٹی وی کے 05 لائسنسز کا اجرا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ وطن عزیز میں 31 مارچ2019 تک رجسٹرڈ ٹی وی سیٹس کی تعدادایک کروڑ 91 لاکھ38 ہزار 6 سو 93 ہے۔ یعنی ہمارے دیس میں اوسطً گیارہ افراد کے لیے ایک ٹی وی سیٹ موجود ہے۔ جبکہ ٹی وی ناظرین کی تعدادپاکستان کے سالانہ منصوبہ 2017-18 کے مطابق 13 کروڑ 50 لاکھ ہے یعنی ملک کی65 فیصد آبادی ۔جس میں سے 7 کروڑ 40 لاکھ کیبل اور سٹیلائٹ کے ویورز ہیں جبکہ روایتی ٹی وی اینٹینا کے ذریعے ٹی وی دیکھنے والوں (Terrestrial viewership) کی تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ ہے۔ 

ٍٍ           تکنیکی منظر نامہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے باوجود ٹی وی آج بھی کسی نہ کسی شکل میں روزمرہ زندگی کی ایک اہم ضرورت بنا ہوا ہے۔ کیونکہ نئی ٹی وی ٹیکنالوجیز تیزی سے متعارف ہو رہی ہےں اور پچھلی دو دہائیوں کے دوران متعدد ٹیکناجیز مارکیٹ میں داخل ہوئیں اور اس کے بعد نئی سے نئی اپنی جگہ لے رہی ہیں۔ اینا لاگ ٹریسٹیریل ٹی وی (Analog terrestrial TV ) نے 2000 کی دہائی میں کے اوائل میں مارکیٹ پر غلبہ حاصل کیا۔ لیکن جلد ہی 2010 کی دہائی کے وسط میں ڈیجیٹل کیبل ٹی وی نے جگہ لے لی۔ جسے ڈائریکٹ ٹو ہوم DTH اور ڈیجیٹل ٹریسٹوریل ٹیلی ویژن DTT اور دیگر بہت سی ٹیکنالوجیز کے ذریعہ چیلنج کیا جارہا ہے۔ اور2021 تک توقع کی جارہی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیلویژن دنیا کے 98 فیصد گھروں میں ہوگا۔ اسی طرح صرف نشریاتی ٹیکنالوجی ہی ترقی پذیر نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن ہارڈ وئیر میں بھی ترقی ہوئی ہے۔ کیونکہ ٹیلویژن کی اصل تعریف تیزی سے بدل رہی ہے۔ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی تیز رفتار نشوونما نے ٹی وی کا روایتی تصور تبدیل کر دیا ہے۔اسی وجہ سے اب سمارٹ ٹی وی سیٹس جواپنے حجم میں کمی کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگر سہولیات جس میں انٹرنیٹ سے رابطہ کی سہولت نمایاں ہے فراہم کر رہے ہیں اور مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں ۔ 2018 میں دنیا میں فروخت ہونے والے 70 فیصد ٹی وی سیٹس سمارٹ ٹیکنالوجی کے حامل تھے۔
          لیکن اس تمام تر پیش رفت کے باوجود موبائل ڈیوائسز (سمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور لپ ٹاپس) ٹی وی سیٹس اوران سیٹس پر نشریات کی viewershipکے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔کیونکہ Zenith لندن کے مطابق دنیا میں اس وقت روزانہ اوسطً ایک سو 30 منٹ موبائل انٹر نیٹ ڈیٹا استعمال کیا جارہا ہے جو2015 میں 80 منٹ تھا۔موبائل انٹرنیٹ اور براڈبینڈ انٹرنیٹ سے منسلک موبائل ڈیوائسزکی مدد سے دنیا بھر میں اوسطً روزانہ 136 منٹس سوشل میڈیا پر ٹائم صرف کیاجارہا ہے جو 2012 میں 90 منٹ تھا۔یوں اب موبائل ڈیوائسز کے استعمال پرصرف ہونے والا زیادہ سے زیادہ وقت دیگر ابلاغی ذرائع(اخبارات، میگزین، ریڈیو، سینما،ٹی وی) پر خرچ ہونے والے وقت کو کھا رہا ہے اور ٹی وی اس کا زیادہ شکارہورہا ہے۔ Zenith کی رپورٹ Media Consumption Forecasts 2016 کے مطابق 2010 میں دنیا میں اوسطً190.1 منٹ ٹی وی دیکھا جاتا تھا۔ جس کے2018 تک کم ہوکر 170.1 منٹ روزانہ کی پیش گوئی رپورٹ میں کی گئی ہے۔اسی طرح اخبارات 20.1 منٹ سے کم ہوکر11.9 منٹ، میگزین 11.7 سے 5.2 منٹ، ریڈیو 60 منٹ سے کم ہوکر52.2 منٹ اور سنیما 1.7 منٹ سے کم ہوکر1.2 منٹ اوسطً روازنہ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
          پاکستان بھی اس رجحان کے زیراثر ہے کیونکہ ملک میں اس وقت 93.9 فیصد گھروں میں موبائل فون موجود ہے۔ شہروں کے97.5 فیصد اور دیہہ کے 91.6 فیصد گھروں میں موبائل فون کا وجود ہے جبکہ ملک کے موبائل فون صارفین کا 72 فیصد سمارٹ فون استعمال کرتا ہے اور یہ اب گھر گھر کی کہانی بن چکی ہے کہ لوگ اپنا زیادہ تر وقت ان ڈیوائس کے استعمال میں گزارتے ہیں۔اگرچہ دنیا بھر میں ٹیلی ویژن صنعت باربار یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کے انضمام اور اپنے صارفین کے بدلتے ہوئے مطالبات دونوں کو اپنانے کے قابل ہے ۔بہت سی دیگر ٹیکنالوجیز کے برعکس ٹیلویژن دنیا بھر کا رجحان ہے اور اسے ہر شعبہ ہائے زندگی اور دنیا کے ہر گوشے سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں میں جگہ ملی ہے۔ لیکن اس کے باوجود موبائل ڈیوائسز کی مدد سے سوشل میڈیا پر لوگوں کی بڑھتی ہوئی توجہ اور مصروفیت ٹی وی کی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ایک پاکستانی ٹی وی ناظر اپنی زندگی میں کتنا ٹی وی دیکھتا ہے؟
 اعدادوشمار کے مطابق ایک پاکستانی ٹی وی ناظر دن میں اوسطً 2 گھنٹے ٹی وی دیکھتا ہے۔ اس طرح وہ ایک سال میں 730گھنٹے ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ایک پاکستانی کی اوسط عمر67 سال ہے۔ یوں ایک پاکستانی اپنی تمام عمر میں اوسطً 48910 گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ 24 گھنٹے ایک دن اور 8760 گھنٹے ایک سال میں ہوتے ہیں۔ اس طرح ملک میں ایک ٹی وی ناظر اپنی زندگی میں ساڑھے پانچ سال طوالت پر مشتمل عرصہ ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتا ہے۔

ٹیلی ویژن کی ایجاد
          وہ آئیڈیا جسے ہم آج ٹیلی ویژن کے طور پر جانتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس پر بحث کا آغاز تب سے ہی شروع ہوگیا تھا جب امریکی عوام کے لئے 1870 کے وسط میں ٹیلی فون متعارف ہوا۔ دراصل ٹیلی ویژن کے ابتدائی تصورات یہ تھے کہ کوئی ایسا طریقہ ہو جس کی بدولت ٹیلی فون پر بات کرنے والے کی صورت دیکھی جاسکے۔ جارج کیری (George Carey ) نے1876 کے اوائل میں ایک ایسے عمل کے بارے میں سوچا جس کے ذریعے کسی تصویراور اُس سے وابستہ آواز کو الیکٹرانک سگنلز میں تبدیل کیا جائے پھر ان الیکٹرانک سگنلزکو ماخذ سے وصول کنندہ کو بھیجا جائے اور برقی اشاروں کو دوبارہ تصویر اور آوازوں میں تبدیل کیا جاسکے ۔ اُنھوں نے 1879 اور1880 میں سائنٹیفک امریکن میں "seeing by electricity" کے عنوان سے اس بارے میں لکھا۔25 اگست1900 کو پیرس میں ہونے والی نمائش میں انٹرنیشنل الیکٹرکسٹی کانگریس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کنسٹ ینٹین پارسکی (Constantin Perskyi ) نے ایک مقالہ پیش کیا جس کا عنوان” ٹیلی ویژن“ تھا ۔ جس میں اُنھوں نے سیلینیم (selenium) کی مقناطیسی خصوصیات پر مبنی اپریٹس (apparatus) کے بارے میں بات کی۔ 07 ستمبر1927 کو سان فرانسسکو امریکہ میں پہلی بار الیکٹرانک ٹیلی ویژن کا کامیابی کے ساتھ مظاہرہ کیا گیا۔ یہ نظام 21 سالہ موجد فیلو ٹیلر فارنس ورتھ (Philo Taylor Farnsworth)نے تیار کیا تھا۔جو 14 سال کی عمر تک بجلی کے بغیر مکان میں رہائش پذیررہا تھا۔ فارنس ورتھ ابھی ہائی اسکول میں ہی تھا تو اُس نے ایک ایسے نظام کا تصور کرنا شروع کیا جو حرکت پذیراشکال(images) کو ایسی صورت میں گرفت میں لے سکے کہ اِنھیں ریڈیو لہروں کی صورت میں ڈھالا جاسکے اور پھر اسکرین پر ایک تصویر کی صورت میں دوبارہ تبدیل کیا جا سکے۔ روس میں بورس روسننگ (Boris Rosing )نے فارنس ورتھ کی پہلی کامیابی سے 16 سال قبل تصویری ترسیل کے بارے میں کچھ خام تجربات کیے تھے۔اس کے علاوہ ایک مکینیکل ٹیلیویژن سسٹم جس میں گھومنے والی ڈسک میں سوراخ کرکے ان سوراخوں پر اشکال چسپاں کی گئی تھیں۔اس ڈسک کو تیزی سے گھمانے سے سوراخ میں لگی scanned images حرکت کرتی ہوئی محسوس ہوتیں۔اس کا مظاہرہ انگلینڈ میں جان لوگی بیرڈ (John Logie Baird) اور امریکہ میں چارلس فرانسس جینکنز(Charles Francis Jenkins ) نے سن 1920 کی دہائی میں کیا ۔ تاہم فارنس ورتھ کی ایجادجس میں اشکال ( images )الیکٹرانز کی ایک بیم کی صورت میں scan ہوتیں کوجدید ٹیلی وژن کا براہ راست جد امجد قرار دیا جاتا ہے۔
فیلوٹیلرفارنس ورتھ اپنے ایجاد کردہ ٹی وی سیٹ کے ہمراہ

پاکستان میں ٹی وی کی تاریخ
پاکستان دنیا کا 52 واں ملک تھا جو ٹی وی نشریات کے نقشہ پر ابھرا ۔یہ 1952 کی بات ہے جب کراچی ملک کا دارلحکومت تھا۔ برطانوی آفیسرز کی رہائشی بیرکس میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کے انڈر سیکرٹری اپنے اعلیٰ افسران کو ایک فائل پیش کرتے ہیں۔ اس فائل پر Top Priority یعنی فوری توجہ کا اسٹیکر چسپاں تھا۔ اس فائل میں ملک میں ٹیلی ویژن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ لیکن اعلیٰ افسران ملکی وسائل میں کمی اور ضروری فنڈز کی عدم دستیابی کے سبب اس تجویز کو رد کر دیتے ہیں۔ 1955 میں موجودہ سینٹرل جیل کراچی کے قریب میں ہونے والی تیسری بین الاقوامی نمائش کے افتتاح سے پہلے نمائش کے امریکی پویلین میں5 ستمبر کو ٹی وی کی نشریات پیش کی گیں۔ پاکستان کے اُس وقت کے قائم مقام گورنر جنرل سکندر مرزا نے16 ستمبر 1955 کوتیسری بین الاقوامی نمائش کا افتتاح کیا۔ بعد میں اُنھوں نے امریکی پویلین کے ٹی وی اسٹوڈیوز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ” میں نے ٹی وی اسٹوڈیوز کا دعوت نامہ اس لیے قبول کیا ہے کہ حکومت ٹی وی کو پاکستان کے لیے بہت ضروری سمجھتی ہے“۔ اس کے بعد جنرل ایوب خان کے قائم کردہ قومی تعلیمی کمیشن نے جنوری1960 میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی ۔ اس رپورٹ کے12ویں باب میں ملک میں جلد از جلد تعلیمی مقاصد کے لیے ٹیلی ویژن کے قیام کی ضروت پر زور دیا گیا۔ 05 اکتوبر1960 کو وفاقی کابینہ نے ملک میں تعلیمی مقاصد کے لیے ٹی وی کے قیام کی منظوری دی۔ فروری 1961 میں صدر ایوب خان نے جاپان کا دورہ کیا وہ جاپان میں ٹیلی ویژن کی ترقی سے بہت متاثر ہوئے۔ اُسی سال دسمبر میں حکومتِ پاکستان کی دعوت پر کولمبو پلان کے تین جاپانی ماہرین پاکستان آئے اُس وفد نے ملک میں ٹیلی ویژن کے قیام کا تفصیلی جائزہ لیا۔1962 کے اوائل میں اُنھوں نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں ٹی وی صرف تعلیم تک محدود کرنے کی بجائے عام مقاصد کے لیے متعارف کرایا جائے۔ اکتوبر1962 میں کراچی میں پی آئی ایف یعنی پاکستان انٹرنیشنل فیئر کے عنوان سے ایک اور بین الاقوامی نمائش لگائی گئی۔ اس نمائش میں فلپس الیکٹریکل کمپنی آف پاکستان لمیٹیڈ نے ایک تجرباتی ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم کیا۔ پورے شہر میں مختلف مقامات پر200 ٹی وی سیٹس رکھے گئے۔ عوام کی فرمائش پر اُس اسٹیشن کو 31 جنوری1963 تک جاری رکھا گیا۔ اُس زمانے میں حکومتِ پاکستان نے ملک میں ٹیلی ویژن کے قیام کے لیے پیشکش طلب کیں۔ اس سلسلے میں 8 اداروں نے دلچسپی ظاہر کی۔ جس میں تین غیر ملکی ادارے بھی شامل تھے۔ اپریل1964 میں ٹیلی ویژن پلاننگ سیل قائم کیا گیاجو ڈائریکٹر جنرل آف ریڈیو پاکستان کا ایک جزو تھا۔ 19 جون 1964 کو کولمبو پلان کے تحت حکومتِ جاپان کی ہدایت پر حکومتِ پاکستان کے تعاون کے لیے جاپان کا ایک وفد پاکستان آیا۔ دو مہینے کی شب و روز محنت کے بعد پانچ ارکان نے 20 اکتوبر1964 کو ٹیلی ویژن پراجیکٹ اِن پاکستان کے نام سے ایک رپورٹ حکومتِ پاکستان کو پیش کی۔ یکم مئی1964 کو(Nipon Electric Company (NEC) of Japan )نے اسلم اظہر کا تقرر پروگرام ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیا۔ اسلم اظہر ریڈیو اور تھیٹر کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔لاہور کا مشہور ثقافتی مرکز الحمرا جہاں کبھی لاہور آرٹس کونسل کی عمارت تھی۔ یہاں اگست1964 میں کرائے پر ایک شیڈ حاصل کر کے ٹی وی کا دفتر قائم کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان لاہور کی موجودہ عمارت کے پچھلے حصے میں اسٹوڈیوکی تعمیر شروع کر دی گئی۔ بعد میں اسلم اظہر اور اُن کے ساتھی بھی آرٹس کو نسل سے یہاں ایک ٹینٹ میں منتقل ہوگئے۔ 26 نومبر1964 ملک میں ٹیلی ویژن کی پہلی صبح تھی۔ سہ پہر ساڑھے تین بجے افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ صدر ایوب خان نے ٹیلی ویژن کا افتتاح کیا۔ قاری علی حسین صدیقی کی تلاوت سے نشریات کا آغاز ہوا۔ ذکا درانی نے پاکستان میں ٹیلی ویژن کی ابتداءسے متعلق معلومات فراہم کیں۔ یہ وہ پہلا چہرہ تھا جو ٹی وی پر نمودار ہوا۔ اس کے بعد طارق عزیز نے انانسمنٹ کی اور پہلی خبریں بھی اُنھوں نے ہی پڑھیں۔ پہلی خاتون انانسمنٹ کنول نصیر تھیں۔ پہلا اشتھار جو نشر کیا گیاوہNEC کا تھا جس کا کوئی معاوضہ نہیں لیا گیا۔ اُس وقت30 سیکنڈ کے اشتھارات کا نرخ35 روپے مقرر کیا گیا۔ابتداءمیں نشریات کا دورانیہ تین گھنٹے تھا اور پیر کے روز چھٹی ہوتی تھی۔ ریکارڈنگ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے تمام پروگرام براہ راست نشر کیے جاتے تھے۔
ماخذ: دستاویزی پروگرام ” پی ٹی وی کا سفر“ پروڈیوسر: ناظم الدین۔ تحریر: ضیاءالرحمان ضیا
 ایک اور حوالے کے مطابق پاکستان میں ٹیلی ویژن اصل میں نجی شعبہ کاپراجیکٹ تھا 1961 میں ممتاز صنعتکارسید واجد علی نے جاپان کی نیپون الیکٹرک کمپنی (این ای سی) کے ساتھ مشترکہ منصوبے پر دستخط کیے تھے۔ معروف پاکستانی انجینئر عبید الرحمٰن کو سیدواجد علی نے ٹیلی ویژن منصوبے کی سربراہی کے لئے مقرر کیا ۔ 1962 تک کئی ایک پائلٹ ٹرانسمیشن ٹیسٹوں کے سلسلے کے بعد 963 1میں ایوب خان حکومت نے ملک کے وسیع تر قومی مفادمیں اس منصوبے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
ریڈیو پاکستان لاہور کے احاطہ میں موجود وہ عمارت جہاں ملک کا سب سے پہلا ٹی وی اسٹیشن قائم کیا گیا

پاکستان میں نجی شعبہ میں ٹی وی کا آغاز
 1988 میں اُس وقت کی حکومت نے ”پیپلز ٹیلی ویژن نیٹ ورک “(پی ٹی این) کے نام سے ملک کا پہلا نیم سرکاری ٹی وی نیٹ ورک شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کی چھتری تلے شروع کیا۔ بعدازاں پی ٹی این کا نام بدل کر اسے ”شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک“ (ایس ٹی این)کر دیا گیا۔ ایس ٹی این کا آغاز پہلے اسلام آباد پھر کراچی اور بعد ازاں لاہور سے ہوا۔1990 کے دہائی کے وسط تک اس نیٹ ورک نے پورے ملک میں وسعت اختیار کر لی۔ ایس ٹی این نے پہلی بار پاکستان میں عام انٹینا پر سی این این انٹرنیشنل کی نشریات پیش کرنے کا آغاز کیا۔یہ ایس ٹی این کا پہلا منصوبہ تھا۔ 1990 میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے تحت ایس ٹی این نے پاکستان کا پہلا نجی ٹی وی چینل ”نیٹ ورک ٹیلی ویژن مارکیٹنگ “(این ٹی ایم) شروع کیا۔یوں این ٹی ایم اور سی این این کی نشریات پیش کی جانے لگیں جو 1999 تک کامیابی سے جاری رہیں۔
 ماخذ: ورلڈ ہیرٹیج انسائیکلوپیڈیا۔

ایک ٹی وی پروفیشنل
فرحان مشتاق، پی ٹی وی پروڈیوسر
   فرحان مشتاق گزشتہ 15 سال سے پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ بطور پروڈیوسر منسلک ہیں۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں اُنھیں ابلاغ عامہ کے تینوں میڈیم اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں کام کرنے کا عملی تجربہ ہے۔ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ملک میں ٹی وی انڈسٹری کو درپیش چیلنجز کا علمی اور عملی پہلوں سے تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔ ” پاکستان میں ٹی وی انڈسٹری کو درپیش چیلنجز میں سے سب سے اہم چیلنج ٹی وی چینلزکی زیادہ تعداد ہے۔ ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ اس وقت 80 سے زائد نجی سٹیلائیٹ ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں اور مزید نئے آرہے ہیں۔ ان سب کو اپنے استحکام اور ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی وسائل کی ضرورت ہے۔سرکاری ٹی وی کو چونکہ حکومت ،فیس اور اشتھارات کی مد میں کافی وسائل مہیا ہو جاتے ہیں۔ لیکن نجی شعبہ کا مکمل انحصار اشتھارات پر ہے۔جس کی ایک محدودمالیت ہے۔ اگرچہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کے اشتھارات کی مارکیٹ کا 46 فیصد ٹی وی انڈسٹری کو ملا لیکن یہ 38 ارب روپے ہماری انڈسٹری کے لیے نا کافی ہیں۔ کیونکہ اس مالیت میں سے ایک قابلِ ذکر حصہ دو تین بڑے چینلز لے جاتے ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ چینلز جو مارکیٹ میں ظاہری بات ہے آئے تھے پیسہ کمانے کے لیے اپنی جمع پونجی لگانے کے بعد اب خصارے کا شکار ہیں۔ یعنی انڈسٹری میں زیادہ آبادی اور کم وسائل والی صورت حال کا ہمیں سامنا ہے۔ ٹی وی پروڈکشن چاہے وہ نیوز ہو یا تفریحی پروگرامز ایک مہنگا کام ہے۔ جس کے لیے وافر معاشی وسائل کی تسلسل کے ساتھ ضرورت رہتی ہے۔لیکن جب ایک کھیت پر انحصار کرنے والے بڑھ جائیں تو پھر پیٹ کسی کا نہیں بھرتا اور جن کے بال بچے زیادہ ہوں یعنی جو زیادہ بڑے سیٹ اپ کے حامل ہوں اُن کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اُنھیں وسائل کا زیادہ حصہ مہیا کرنے کے باوجود بھی وہ معاشی تنگی کا شکار رہتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ جب آپ کے اشتھارات کی مارکیٹ محدود مالیت کی ہے تو پھر اتنے زیادہ ٹی وی لائسنسز جاری نہیں کرنے چاہیئے تھے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ابھی اور نئے چینلز مارکیٹ میں آر ہے ہیں۔اب ایسی صورت حال میں انڈسٹری پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ جس کا ایک طرف تو ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ خصوصاً نیوز چینلز سے متعلقہ ہنر مندوں، ماہرین اور پروفیشنلز کو سامنا ہے تو دوسری جانب ناظرین کو بھی۔ آمدن / معاشی وسائل میں کمی کا براہ راست پہلا اثر چینلز سے وابستہ افرادی قوت کے معاوضوں کی تاخیر سے ادائیگی پھر کمی اورآخر میں عدم ادائیگی کے بعد روزگار سے چھٹی پر منتج ہوتا ہے۔اور یہ وہ بحرانی کیفیت جس سے ہمارے نجی ٹی وی چینلز اس وقت گذر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند چینلز نے بعض افراد کو خطیرمعاوضوں کی ادائیگی کا جو ٹرینڈ متعارف کرایا وہ آج خود اُن کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ اس روایت نے دیگر ٹی وی ملازمین کو احساس کمتری کا شکار کیا ہے اورخاص کر اخبار ی کارکنوں کو بھی۔ کیونکہ اکثر اخبارات اور ٹی وی چینلز ایک ہی فرد کی ملکیت میں ہیں لیکن ٹی وی اور اخبارات میں معاوضوں کا واضح فرق موجود ہے۔دوسری جانب ٹی وی چینلز کے پاس اگرمالی وسائل کی کمی ہوگی تو اِس کابلآخر اثر اس کے مندرجات پر بھی پڑے گااوروہ غیر معیاری سب اسٹینڈرڈ مندرجات پیش کرنے لگے گا۔ اگر نیوز چینل ہے تو وہ ڈیسک اسٹوریز تک محدود ہو کر صرف خبر یں پیش کرنے والا چینل بن جائے گا نہ کے خبر حاصل کرنے اور بنانے والا۔اسی طرح اگر تفریحی چینل ہے تو وہ نشرر مکرر اور سستے غیر ملکی مواد کو پیش کرنا شروع کر دے گا۔ یا پھر وہ ایسے مندرجات بنانے کی کوشش کرے گا جو اشتھاری کمپنیوں کی ڈیمانڈ ہو۔ کیونکہ معیاری مندرجات بنانے کے لیے اُس کے پاس مالی وسائل نہیں۔یوں اس تمام صورتحال کا براہ راست اثر ناظرین پر پڑتا ہے۔اس کے علاوہ ہمارے ہاں بعض بڑے چینلز کے مابین پیشہ ورانہ مسابقت کی بجائے کاروباری مسابقت کی روش بھی موجود ہے۔ جس میں ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کو اپنے چینلز پر اجاگر کر کے ایک دوسرے کی ویور شپ اور ساکھ کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ جس سے ہماری ٹی وی انڈسٹری کاایساتاثر ابھرتا ہے جو بحیثیت مجموعی انڈسٹری کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔
  دنیا بھر میں ٹی وی انڈسٹری کو مالی وسائل اشتھارات سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور یہ اشتھارات زیادہ تر چینلز کی ویور شپ اور پروگراموں کی ریٹنگ کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔ کوئی چینل کتنا دیکھا جاتا ہے اُس کے پروگراموں کی کیا ریٹنگ ہے اس تمام تر کا انحصار ٹی وی نشریات کی ناظرین تک زیادہ سے زیادہ پہنچ پر منحصرہے۔ہمارے شہروں میں اگر چہ عام ٹی وی انٹینا اور ڈش انٹینا کے ذریعے بھی ٹی وی دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن زیادہ تر کیبل کے ذریعے ٹی وی کی نشریات ناظرین تک پہنچتی ہے جس کا تناسب 96 فیصد ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تقریباً تمام پاکستانی چینلز اور کچھ غیر ملکی چینلز کا اس ایک سہولت میں اکٹھا ملنا ہے۔ جبکہ دیہات جہاں ابھی بھی ہماری آبادی کا آدھے سے زائد حصہ رہائش پذیر ہے وہاں ٹی وی کی نشریات کیبل سسٹم کے علاوہ عام انٹینا اور ڈش انٹینا کے ذریعے بھی دیکھی جاتی ہیں۔دیہی علاقوں میں ناظرین کا 39 فیصد عام انٹینا کے ذریعے 15 فیصد ڈش انٹینا اور 45 فیصدکیبل کے ذریعے ٹی وی دیکھتا ہے۔عام انٹینا پرپی ٹی وی اور اے ٹی وی کی نشریات دیکھی جاسکتی ہیں۔ جبکہ ڈیش انٹینا پر اس طرح کی کوئی قید نہیں لیکن تمام پاکستانی چینلز بھی ایک ڈش انٹینا پر نہیں دیکھے جاسکتے۔ کیونکہ کوئی کس سمت ہے تو کوئی کس سمت۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دیہات کے آدھے سے زائد ناظرین کو کیبل سسٹم کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے تمام نجی چینلز کو دیہی ناظرین کی ایک بڑی تعداد تک رسائی حاصل نہیں تو غلط نہ ہوگا۔ دوسری جانب ملک میں موجود کیبل سسٹم جس کے شروع کے چینلز کی کوالٹی تو شاندار ہوتی ہے لیکن جیسے جیسے آپ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ نشریاتی کوالٹی میں تنزلی آنا شروع ہوجاتی ہے۔شاید ہی کوئی ایسا کیبل نیٹ ورک ہو جس کے پہلے نمبر پر نشر ہونے والے چینلز کی نشریاتی کوالٹی اور آخری نمبر ز پر آنے والے چینل کی کوالٹی یکساں ہو۔ یعنی ہمارے اکثر کیبل سسٹم میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ بیک وقت یکساں کوالٹی کے حامل 100 یا اس سے زائد چینل پیش کر سکیں (اب کچھ کیبل نیٹ ورکس ڈیجیٹل بکس کے ذریعے چینلز کی یکساں کوالٹی میں فراہمی کا دعویٰ کر رہے ہیں)۔اس طرح کی صورتحال کی موجودگی اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کیبل آپریٹر کسی چینل کی ویور شپ کو کم یا زیادہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب ایک چینل کو کیبل کے ایسے نمبر پر رکھا جائے جہاں اُس کی نشریاتی کوالٹی اچھی ہو اور ناظرین کو فوراً وہ چینل مل جائے تو ایسی صورت میں چینل کی ویور شپ بڑھتی ہے۔ بانسبت کسی چینل کو ایسے نمبرپر رکھا جائے یا منتقل کر دیا جائے جہاں نشریاتی کوالٹی بھی کمزور ہو اور لوگ اُس نمبر تک جاتے ہی نا ہوں یا کم جاتے ہیں تو ویور شپ کیسے بڑھے گی اور اگر چینل کو اوپر کے نمبرز سے نیچے کی طرف شفٹ کیا گیا ہے تو اُس کی موجودہ ویور شپ بھی گئی۔ پھر ایسی صورتحال میں اشتھار کون دے گا؟
          یعنی ٹی وی انڈسٹری کو ایک بڑا چیلنج ویور شپ کے حوالے سے بھی ہے۔ اگرچہ لوگ آج بھی ٹی وی بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ناظرین جتنا وقت پہلے ٹی وی دیکھنے پر صرف کرتے تھے اب اس میں کمی آرہی ہے۔ اس کا اندازہ ان اعداوشمار سے با خوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ 2008 میں پاکستان میں ایک ناظر اوسطً 162 منٹ روزانہ ٹی وی دیکھتا تھا جو اب کم ہوکر117 منٹ ہو چکا ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو ہمارے تفریحی چینلز کے پروگراموں میں نئے آئیڈیا ز، موضوعات اور مندرجات میں تنوع کی کمی ہے۔ تو دوسری جانب اکثر نیوز چینلز کا کسی ایک خاص طرف جھکا اور عوامی مسائل کی بجائے سیاسی موضوعات،شخصی اور پارٹی پروپگینڈے کا آلہ کار بننا ہے۔ جس سے کافی نیوز چینلز کی Credibility عوام میں متاثر ہوئی ہے۔دوسری بڑی وجہ موبائل ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے ٹی وی ویور شپ کے معنی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔آج پروگرام اَن ڈیمانڈ کا رواج زور پکڑ رہاہے۔ لوگ اپنی پسند کا پروگرام اپنی سہولت کے مطابق مختلف ڈیوائسز اور انٹر نیٹ کی مدد سے کبھی بھی اور کہیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اب ٹی وی سیٹ بھی انٹرنیٹ سے جڑنے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ان سب نے لائیو ٹی وی ویور شپ کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ علاوہ ازیں موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا کو بڑھتا ہو ا استعمال ٹی وی ویور شپ کے لیے مستقبل میں سب سے بڑا چیلنج بن جائے گا۔ اوراس نے اپنے اثرات دیکھانا بھی شروع کر دیئے ہیں۔ماہرین اب اس بارے میں مختلف پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے لیے شاید لوگوں کے پاس وقت نہ رہے ۔  ٹی وی انڈسٹری میں ایک اور چیلنج پروڈکشن تکنیک میں تبدیلیوں کا بھی ہے۔ یہ اتنا بڑا محرک ہے کہ پاکستان میں ایکسویں صدی کے آغاز میں مختلف چینلز نے نئی پروڈکشن ٹیکنالوجی کے ساتھ جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو پہلے سے موجود پی ٹی وی جس کی بالادستی کئی عشروں سے موجود تھی۔ وہ عضو معطل ہوتا چلا گیا۔ کیونکہ وہ بوجوہ خود کو نئی پروڈکشن ٹیکنالوجی سے آراستہ نہ کرسکا تھا۔ دوسری طرف نئے چینلز نے جو پروڈکشن ٹیکنالوجی بالخصوص ڈرامہ کے میدان میں استعمال کیں وہ فلم تکنیک سے متاثر تھیں۔ فلم کی پروڈکشن تکنیک ٹی وی کی پروڈکشن تکنیک سے مختلف ہونے کی وجہ سے اثر پذیری بھی مختلف رکھتی ہے۔ بی بی سی آج بھی ڈرامہ، ٹاک شو، ڈاکومینٹری میں بالخصوص روایتی ٹی وی پروڈکشن تکنیک پر عمل کرتا ہے۔ فلم کی پروڈکشن سنگل کیمرہ ریکارڈنگ کے گرد گھومتی ہے اور ٹی وی پروڈکشن تکنیک اسٹوڈیو، لائٹس اور ملٹی پل کیمرہ ریکارڈنگ کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے علاوہ فارمیٹ کے فرق کو گڈمڈ کرنا بھی ٹی وی سکرین کے زوال کا باعث بن رہا ہے۔ اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ چینلز پر کام کرنے والا تخلیقی اور تکنیکی عملہ کسی تربیت اور کسی اسکول آف تھاٹ کا پیروکار ہوئے بغیراپنی مرضی سے پروڈکشن کررہا ہے۔ جبکہ پی ٹی وی سمیت دنیا کے تمام پروڈکشن ہاسز میں ہر فارمیٹ کی شارٹ گرائمر باقاعدہ فالو کرائی جاتی ہے۔

ایک میڈیا اکیڈمک پروفیشنل
ڈاکٹر زاہد بلال، چیئرمین شعبہ ابلاغیات، اوکاڑہ یونیورسٹی

 ڈاکٹر زاہد بلال میڈیا اسٹڈیز کے ایک معتبر نام ہیں ۔ اوکاڑہ یو نیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے قیام کا اعزاز انھیں حاصل ہے ۔ آپ شعبہ ہذا کے بانی چیئرمین ہیں۔ براڈکاسٹ میڈیا اُن کی specialty ہے۔ ملک کی دو جامعات( پنجاب یونیورسٹی اور گجرات یو نیورسٹی) میں ریڈیو اسٹیشنز بنانے اور چلانے کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ امریکہ کی University of Oklahoma اور گجرات یونیورسٹی کے سینٹر فارمیڈیا اینڈ کمیونیکشن اسٹڈیز کے فیکلٹی اینڈ اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرام کے کوارڈینیٹر رہ چکے ہیں اس پروگرام کے تحت جامعہ گجرات میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹی وی اسٹوڈیو بھی قائم ہوا۔ ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے مندرجات ان کی تحقیقی سرگرمیوں کا بنیادی موضوع ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ” نجی ٹی وی چینلز کی مش روم گروتھ سے قبل سرکاری ٹی وی کو کسی قسم کا مقابلہ درپیش نہیں تھا۔ اس پر نشر ہونیوالے خبر نامے اور حالات حاضرہ کے پروگراموں کو ایک بہت سخت مرکزیت کے حامل مختلف سطحوں کے نظام سے گزرنا پڑتا تھا۔ جسکی وجہ سے یہ جمود کا شکار تھے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے آنے سے صحت مندانہ مقابلے کی فضا پیدا ہوئی۔ اور کسی حد تک خبری نظام کا ڈھانچہ جمود کی حدود کو پھلانگنے میں کامیاب ہوا ۔ ناظرین کو متنوع اور متحرک خبرمانہ اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام دیکھنے کو ملے۔ شروع شروع میں تو یہ تحرک ناظرین کو بہت بھایا اور راس بھی آیا۔ کیونکہ اس نے معلومات تک رسائی کو ممکن بنایا مگر ڈیڑھ عشرے کی آزادی کے بعد یہ رجحان بھی جمود کا شکار ہوگیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خبروں کے مندرجات صرف سیاسی مسائل کی ایک خاص سمت ہی کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جبکہ سیاسی مسائل بھی صرف سطحی طور پر پارٹی رہنماں کی سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں۔ معاشرتی مسائل کے مندرجات کی رپورٹنگ بہت کم ہوتی ہے۔ چینلز کی اس یک رخی کوریج کی وجہ سے ناظرین بوریت کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب خبروں کا رجحان صرف چند بڑے شہروں اور اشرفیہ کی طرف زیادہ رہتا ہے۔ جبکہ مضافات اور علاقائی خبروں کی چینلز میں یا تو بالکل ہی کوریج نہیں دی جاتی اور اگر کچھ ٹی وی چینلزایسا کرتے ہیں تو اس کا تناسب ناقابلِ ذکر حد تک کم ہوتا ہے۔ چینلز علاقائی صحافت کو ترقی دینے میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے۔ مضافات میں موجود رپورٹرز کو تنخواہیں نہیں دی جاتیں جسکی وجہ سے معیاری کوریج نہیں ہو پاتی۔ خبروں کی پیشکش کے انداز میں بھی چینلز ایک خاص روائتی انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ ٹی وی بنیادی طور پر بصری میڈیم ہے جس پر جاندار اور متحرک ویڈیوز پر زیادہ فوکس ہونا چاہیئے۔ جبکہ ہمارے ہاں اسکرپٹ کی طوالت بہت زیادہ ہوتی ہے اور reading effect جابجا خبروں ، رپورٹس اور پیکجز میں محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے چینلز اخبارات اور ریڈیو کے میڈیم کا اطلاق ٹی وی پر کر رہے ہیں۔ اگر ہمارے چینلز کم الفاظ اور زیادہ بصری مواد کو پیش نظر رکھیں تو ویڈیو شوٹ اور ویڈیو گرافی کے انداز اور فریمنگ کی مختلف جہتیں اسے متحرک خبر نامہ بنا سکتے ہیں۔ خبروں کے مندرجات میں کاپی ایڈیٹر، رپورٹر اور ویڈیو ایڈیٹرز کی محنت کم نظر آتی ہے ۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف خبروں کا پیٹ بھرنے کے لیے معمول کے فارمولے پر خبر نامہ تیار کروایا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز filters کی مختلف layers بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ اس کے لیے ایک بڑی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان دنوں چینلز میں بہت سی شفٹیں ختم کی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند لوگ جب سارے کام سر انجام دیں گے تو تنوع مفقود ہو جائے گا۔ ٹاک شوز میں اینکر پرسن لگے بندھے انداز میں موضوع کی تیاری کئے بغیر پروگرام کرتے ہیں۔ جسکی وجہ سے ناظرین ان سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارامیڈیا لوگوں کے معیار کو آہستہ آہستہ بڑھانے کی بجائے خود عام لوگوں کی سطح پر آگیا ہے۔ ایک خاص انداز میں ایک ہی موضوع کو باربار رگیدا جائے تو ناظرین کی دلچسپی کیونکر برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ہمارے ہاں ترقیاتی صحافت کو بھی بالکل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اگر ہمارے چینلز اس پر توجہ کریں تو ناظرین کی دلچسپی بڑھائی جا سکتی ہے“۔ ٹی وی چینلز کے تفریحی مندرجات کے حوالے سے ڈاکٹر زاہد بلال کا کہنا ہے۔ ” ہمارے ٹی وی چینلز کے تفریحی پروگرام خبروں سے کافی حد تک بہتر قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ تاہم اس میں بھی ہمارے ڈرامے اور مارننگ شوزایک خاص موضوع اور فارمیٹ تک محدود ہو گئے ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ ناظرین کی ضرورتوں کو وہ صرف جزوی طور پر ہی پورا کر رہے ہیں۔ حالیہ سالوں میں جب پاکستانی ڈرامہ متنوع موضوعات، اچھے اسکرپٹ ، بہترین کہانی اور جدید پروڈکشن کے ساتھ سامنے آیا تو وہ انڈین چینلز کے سحر کو توڑنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن اب اکثرموضوعات محبت، رقابت اور extra marital affairs کے گرد گھومتے ہیں ۔ان ڈراموں میں اکثر ایسے سینز یا زبان استعمال کی جاتی ہے جو اس قابل نہیں ہوتے کہ آپ اپنی فیملی کے ہمراہ اُنھیں دیکھ سکیں۔ اس حوالے سے دسمبر2017 میں ہونے والاگیلپ پاکستان کا ایک ملک گیر سروے یہ بتاتا ہے کہ 67 فیصد پاکستانیوں نے یہ بات محسوس کرنے کا اظہار کیا کہ ٹی وی کا کوئی مخصوص پروگرام/ ڈرامہ اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔اگرچہ مارننگ شوز خواتین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوئے ہیں مگر معیار کی بات کی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی روایتی فارمولا کے تحت سطحیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسکرپٹ اور فارمیٹ پر محنت کی جائے تو یہ بہت کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ اور مارننگ شوز صرف 20 سے50 سال تک کی آڈیینس کے لیے ہوتے ہیں۔ بزرگوں اور بچوں کے لیے اچھے تفریحی پروگرام کی ٹی وی چینلز پر شدید کمی ہے۔ بچوں کے لیے کوئی قابلِ ذکر پروگرام ھمارے چینلز پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں“۔ٹی وی چینلز کے ضابطہ اخلاق پر عملدارآمد کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ” ماضی کی نسبت خبروں میں ضابطہ اخلاق پر بہتر طور پر عمل ہورہا ہے۔ چینلز نے ممنوعہ ویڈیوز کو دھندلا نا شروع کر دیا ہے۔ بریکنگ نیوز کا ٹرینڈ بھی کم ہوا ہے۔ ٹاک شوز اور تفریحی پروگراموں کی بات کی جائے تو ضابطہ اخلاق کا اطلاق بہت ڈھیلا محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب ہمارے چینلز رضاکارانہ طور پر خود کے ضابطہ اخلاق کو کسی حد تک تو استعمال میں لاتے ہیں مگر ہمارے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کروانے والے اداروں کی غیر سنجیدگی سے اسکے اطلاق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی“۔ ہمارے ٹی وی چینلز اپنے مندرجات میں سماجی ذمہ داری کا کتنا خیال رکھتے ہیں ؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر زاہد بلال کا کہنا ہے کہ ” سماجی ذمہ داری کا خیال رکھنے کے لیے ایک مضبوط ادارتی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ گیٹ کیپنگ کے ذریعے filters کو استعمال کرسکے۔ یہ بہت سنجیدہ اور محنت طلب کام ہے جس کے لیے بہت تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے چینلز ایسی تجربہ کار ٹیم پرInvest کرنا مناسب خیال نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے ہمارے چینلز اپنی سماجی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ نہیں ہو پارہے “۔ ٹی وی چینلز کو درپیش چلنجز اور ان کے حل کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ” آئی ٹی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی نفوذ پزیری کی وجہ سے ٹی وی چینلز کی حرکیات کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس پوسٹ ماڈرن اور پوسٹ ٹرتھ دور نے ٹی وی کے genere اور فارمیٹ کی حدود ہی کو دھندلا کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ ان ادوار کی ضروریات کے پیش نظر ان پابندیوں سے آزاد ہو کر ناظرین کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ امریکی طرز پر جب ہمارے چینلز نے پولیٹیکل کامیڈی کے پروگرام شروع کیئے تو اس جدت اور اختراع کوبہت پزیرائی ملی۔ ٹی وی چینلز کو بہت سرعت اور تسلسل کے ساتھ نئے فارمیٹ کو آزمانا چاہئیے تا کہ ورچوئل ریئیلٹی اور cloud کی دنیا سے واقفیت حاصل کرچکی سمارٹ آڈیئنس کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بہت ہی انفرادی سطح پر جا کر اپنے یوزرز کو معلومات اور تفریح مہیا کرتے ہیں۔ ٹی وی کے لیے آڈیئینس کی تہہ بہ تہہ درجہ بندی بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے چینلز کو مجموعی طور پر اپنا اسپیشلائیزڈفوکس ڈھونڈنا چاہئیے جو کہ اسکی پہچان بن جائے۔ چینلز اپنی نشریات کے مندرجات کی بہت اچھی segmentation کر کہ بھی لوگوں کو مشغول کر سکتے ہیں۔اب لوگوں کے سوچنے، سمجھنے کی صلاحیتں اور جمالیاتی ذوق globalized ہو چکا ہے۔ ایک ہی سین اور فوٹیج بار بار نہیں چلائی جا سکتی۔ ہر لحظہ ایک جاندار ، متحرک، اور انسانی ذہن کی فریکوئنسی سے ہم آہنگ بصری مواد کو تمام تر جدید تکنیکی اختراعوں سے لیس ہونا چاہئیے۔ پھر کہیں جاکر وہ ٹی وی ویورشپ کو اعتماد میں لے سکتا ہے۔ بچوں اور teenagers کے لیے پروگرامنگ ٹی وی کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔اس سلسلے میں ہمارے میڈیا مینجرز کو افریقی اور ترکی ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت جنکے ڈرامے،کارٹونز اور دوسرے پروگرام بچوں اور نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہے ہیں“۔
 

جمعہ، 27 ستمبر، 2019

اخبار بینوں کو ترستا پریس


ابلاغِ عامہ کا سب سے پرانا ذریعہ ”اخبار“ آج دنیا بھر میں قارئین کو ترس رہا ہے۔ ریڈر شپ کی بے رخی کئی ایک نامور بین الاقوامی اخبارات اور میگزینز کی اشاعت (طباعت شدہ) کی بندش پر منتج ہوئی ہے۔ جدید ابلاغی ٹیکنالوجی نے ترقی یافتہ دنیا میں اخبارات پڑھنے والوں کو پرنٹ سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی طرف منتقل کردیا ہے۔ پاکستان جہاں اخبار بینی آغاز سے ہی کوئی قابلِ رشک صورتحال کی حامل نہیں تھی۔ خواندگی کی ہانپتی کانپتی شرح، غربت اور ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی نے ملک میں اخبارات کو پنپنے ہی نہیں دیا ۔ اس پر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی آمد نے رہتی سہتی کسر کو بھی پورا کر دیا ہے۔ اگرچہ جدیدیت کا یہ اثر ابھی ترقی یافتہ دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہاںقدرے کم ہے۔لیکن اخبارات پر سرکاری، مالکان اور عوامی خصوصاً نوجوانوں کی عدم توجہی نے اِسے دوچند کردیا ہے۔ جس کا اندازہ کیسے لگایا جائے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے کیونکہ ہمارے ہاںاخبارت کی ریڈرشپ اور سرکولیشن کے حوالے سے مستند اعدادوشمار کی کمی ہے۔ اخبارات کتنے چھپتے ہیں؟ کتنے بکتے ہیں؟ ان سوالات کا حقیقی جواب ابھی پردوں میں ہے۔ جبکہ ریڈر شپ کے رجحانات کو مانپنے کی کبھی کوئی شعوری کو شش حکومتی اداروںاور اخباری تنظیموں کی جانب سے کی ہی نہیں گئی۔ جس کی وجہ سے اس حوالے سے دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جن میں سے ایک گیلپ پاکستان بھی ہے۔
1985 میں  گیلپ کے ایک سروے کے نتائج ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اُس وقت ملک کے19 فیصد لوگ روزانہ اخبارات پڑھتے تھے اور10 فیصد گھرانے اخبارات خریدتے تھے۔ اس کے علاوہ آسٹریا کے انسٹی ٹیوٹ فار کمپیریٹیو سروے ریسرچ کے ورلڈ ویلیو سروے6 جو کہ پوری دنیا میں2010 سے2014 کے دوران ہوا۔ اُس کے مطابق 2012 میں پاکستان کے11.6 فیصد لوگ روزانہ اخبارات پڑھتے تھے اور17.8 فیصد ہفتہ میں ایک بار اخبار بینی کرتے تھے۔ ہفتہ وار اخبارات پڑھنے والے مرد وں کا تناسب 24.4 فیصد اور خواتین 10.7 فیصد تھا۔ اب پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ ملک کی 15 سے49 سال کی شادی شدہ خواتین   (Ever Married Women      کا5.1 فیصد اور عمر کے اِسی گروپ کے مذکورہ ازدواجی حیثیت کے حامل مردوں (Ever Married Men کا 27.1 فیصد ہفتہ میں صرف ایک بار اخبار پڑھتے ہیں۔
اخبارات کی ریڈر شپ کی یہ دم توڑتی صورتحال ملک میں مطبوعہ اخبارات و رسائل میں کمی کا موجب بھی بن رہی ہے ۔جو کبھی بہت حوصلہ افزاءتھی جس کا اندازہ یونیسکو انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیٹسٹکس کے ڈیٹا بینک سے لیے گئے اعدادوشمار کے تجزیہ سے یوںہوتا ہے کہ 2004 میں روزنامہ اخبارات کی تعداد (Daily newspapers number of titles کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 160ممالک (جن کے اس حوالے سے اعداوشمار دستیاب ہیں)  میں 291 کی تعداد کے ساتھ 7 ویں نمبر پر تھا۔اسی طرح مذکورہ سال پاکستان دنیا بھر میں روزنامہ اخبارات کی دسویں بڑی سرکولیشن  ( Daily newspapers total average circulation )  کا حامل تھا۔لیکن پھر صورت حال یہ ہوئی کہ وطن عزیز میں 2009 تا2018 کی دہائی کے دوران تمام طرح کے طباعت شدہ اخبارات و رسائل کی تعداد میں آدھی کمی واقع ہوئی جو 1039 سے کم ہوکر695 پر آگئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق2018 تک پاکستان میں تمام طرح کے مطبوعہ اخبارات ورسائل کی مجموعی تعداد 695 تھی جس کا 57.4 فیصد (یعنی 399)  روزنامہ اخبارات پر مبنی تھا۔
اخبارپڑھنے کے رجحان میں اضافہ کے لیے خواندگی کی شرح میں بہتری مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اکنامک سروے آف پاکستان 2017-18 کے مطابق 2015-16 تک ملک میں شرح خواندگی 58 فیصد تھی۔وفاقی اداہ شماریات کے اعدادوشمار کے تجزیہ سے ایک دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی ہے ۔ وہ یہ کہ ملک کے آدھے سے زائد یعنی52.3 فیصد( تعداد364) اخبارات و رسائل کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ جبکہ ملک کے سب سے زیادہ روزنامے بھی بلوچستان سے نکلتے ہیں جن کی تعداد 176 ہے جو روزناموں کی ملکی تعداد کا 44 فیصد بنتا ہے۔ لیکن ملک میں خواندگی کی سب سے کم تر شرح بھی بلوچستان کی ہے جو 41 فیصد ہے۔
اس تمام صورتحال میں ملک میں مطالعہ اور اخبار بینی کے رجحان کے فروغ کے لئے آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس ) نے آج (25 ستمبر) کو ”اخبار بینی کے قومی دن“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس روز کا انتخاب 25 ستمبر1690 کو امریکا سے شائع ہونے والے پہلے ملٹی پیپر ”Public Occurrences “کی اشاعت کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا ایک خصوصی مقصد نوجوانوں میں اخبار بینی کے رجحان میں اضافے کے لئے کوششیں کرنا ہے۔ اس قومی دن کے تناظر میں پاکستان میں ابلاغیات کی تعلیم سے وابستہ ممتاز اساتذہ اور صحافیوں کا اخبارات کو ریڈر شپ کے حوالے سے درپیش چلینجز کی مناسبت سے ایک ملک گیر سروے کیا گیا جس میں درج ذیل سوالات تمام شخصیات سے پوچھے گئے ۔
س1 ۔ کیا پاکستان میں اخبارات کی ریڈرشپ میں کمی واقع ہورہی ہے؟
س 2 ۔ کہا جاتا ہے کہ آج اخبارات کی اکثریت غیر جانبدار نہیں رہی ۔آپ اس بات سے کس حد تک متفق ہیں؟کیا اخبارات کا جانبدار ہونا اس کی ریڈر شپ کومتاثر کرتا ہے؟
س3 ۔ نیوز چینلز نے اخبارات کے معیار اور اُس کی ریڈرشپ پر کتنا اثر ڈالا ہے؟
س 4 ۔ آج اخبارات کی ترجیح اشتھار ہے نا کہ قاری۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
س 5 ۔ کیاملک میںصحافیوں کو درپیش مالی اور سیکورٹی کے مسائل بھی اخبارات کی ریڈر شپ کی کمی کا باعث بن رہے ہیں؟
س6 ۔ ڈیجیٹل میڈیا نے اخبارات کی ریڈر شپ کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
س 7 ۔ کیا قارئین اب پرنٹ سے آن لائن اخبارت کی طرف منتقل ہورہے ہیں؟
س 8۔ مالکان اب اخبارات کی نسبت نیوز چینلز پر زیادہ توجہ اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ کیا ایسے طرز عمل کا براہ راست اثراخبار کے مندرجات کے تنوع اور معیارپر نہیں پڑھ رہا ؟ جس سے بلا ٓخر اخبار کی ریڈر شپ متاثر ہوتی ہے؟
س 9 ۔ ملک میں اخبارات کی ریڈر شپ کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
ان سوالات کے جوابات کی تفصیل قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر

پروفیسرڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر، چیئرپرسن، شعبہ ابلاغیات،جامعہ کراچی۔
ج1 ۔ پاکستان میں اخبارات کی ریڈر شپ ویسے ہی کوئی قابلِ رشک نہیں ہے۔ نوجوان جو ہمارا سب سے بڑا طبقہ ہے جس کے اوپر ہم سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں جو معاشرے میں Trend  سیٹ کرتا ہے یا تبدیل کرتا ہے۔ہمارا چونکہ زیادہ واسطہ اِن سے پڑتا ہے اور شعبہ بھی ہمارا ایسا ہے کہ ہمیں اسٹوڈنٹس کو بہت زیادہ تاکید و تلقین کرنی پڑتی ہے کہ وہ اخبارات پڑھیں لیکن یہ ایک بہت افسوس ناک حقیقت ہے کہ نوجوانوں میں اخبارات پڑھنے کا رجحان واقعی بہت کم ہو گیا ہے۔
ج 2 ۔ دیکھئے اخبار کا جانبدار ہونا اُس کی ریڈر شپ اور مجموعی طور پر اُس کے بارے میں جو  Image  ہے اُس کو یقینا متاثر کر تا ہے۔ صحافی معاشرے میں ایک محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ معاشرے کے تمام اداروں اور ریاست کے تمام ستونوں کی کارکردگی پہ ایک غیر جانبدارانہ نظر رکھتے ہیںاور عام عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج کا صحافی جس کا کردار ایک ریفری کا ہونا چاہیے وہ کھیل کا فریق بن چکا ہے۔ بغیر کسی ضمیر کی خلش کے اور بغیر کسی الجھن کے وہ اس کا بر ملا اظہار بھی کرتا ہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں جہاں آپ کو ایک جانب یا دوسری جانب اینکر پرسن کا واضح جھکا دیکھائی دے گا۔ اور پہلے سے آپ کو یہ پتا ہوگا کہ اس موضوع کے اوپر میزبان کا نقطعہ نظر کیا ہوگا۔ تو میرا اپنا خیال تو یہ ہے کہ اگر اخبار ہو یا ٹیلی ویژن کا چینل اگر وہ جانبداری کی اس حد کو چھونے لگے گا تو یقینا اُس کی مقبولیت کا گراف نیچے آئے گا۔ اس لئے وہ اخبارات جو اس زمانے میں بھی کسی حد تک Objectivity  کا خیال رکھتے ہیں خاص طور پر رپورٹنگ میں اور خبروں کو ممکنہ حد تک غیر جانبداری کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کے بارے میں پسندیدگی یقینا زیادہ ہو گی بانسبت اُن کے جو یک طرفہ بنیادوں پر خبریں دیتے ہیں۔
ج3 ۔ جہاں تک اخبار کے معیار کا تعلق ہے تو اُسے مقابلہ درپیش ہے بہت سخت۔ پہلے لوگ24 گھنٹے انتظار کیا کرتے تھے کہ اخبار آئے گا اور اُنھیں خبریں ملیں گی۔ لیکن اب آپ جس وقت چاہیںتازہ ترین خبریں دیکھ سکتے ہیں۔تو اخبارات کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے کہ ایک ایسے زمانے میں جہاں انٹرنیٹ، ڈیجیٹل میڈیا، ٹی وی اور ریڈیو جیسے تیز رفتار کمیونیکشن کے ذرائع موجود ہیں وہ اپنی ریڈر شپ کو برقرار رکھے۔ اس کے لیے اخبارات کو کچھ ایسے اقدامات اور اپنے کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے قارئین کی دلچسپی برقرار رہے ورنہ بنیادی خبریں تو اُنھیںسارا دن ملتی رہتی ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی اطلاع لوگوں کے پاس اخبار سے پہلے پہنچ چکی ہوتی ہے۔
ج4 ۔ جی یہ تو ایک بہت تکلیف دہ Phenomena   ہے اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ میں آپ کو آج سے کوئی 25 تیس سال پرانی بات بتاں ۔میں نے کہیں پڑھا کہ ایک وقت آئے گا کہ جب اخبار کے ایڈیٹر کی جگہ اس کا مارکیٹ مینیجر لے لے گا۔ تو ہمیں یقین نہیں آیا کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مدیر جو اتنا اہم آدمی ہے او ر اخبار کابنیادی ستون ہے اور جس کی فکر اور سوچ پر پورے اخبار کی زندگی کا انحصار ہے اُس کی اہمیت کو کوئی اور پورا کرے گا ۔لیکن آپ یہ دیکھیں کہ ہم منڈی کی دنیا میں رہتے ہیں منڈی کی معیشت ہے۔اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ مارکیٹ فورسز Content   کو  Dominate  کر رہی ہیں۔ جس نے مندرجات پر بہت ہی برا اثر مرتب کیا ہے اور مالکان کا نقطعہ نظر بھی یہی ہے کہ جو چیز بکتی نہیں ہے اُس کو چھاپا کیوں جائے خواہ اُس کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کے اعتبار سے کتنی ہی زیادہ ضرورت کیوں ہی نا ہو۔ تو یہ  Phenomena  تو سامنے آگیا ہے اور یہ بہت تکلیف دہ ہے میرا خیال ہے اس نے اخبارات کے معیار کو بہت متاثر کیا ہے۔
ج5 ۔ دیکھیں اخبارات نے اپنے اسٹاف کی تعداد میںبہت زیادہ کمی کی ہے اور وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کئی شہروں سے نکلنے والے اپنے اخبار ات کے لیے ایک ڈیسک بنا دیا جائے۔یعنی اخبار بنایا کہیں ایک جگہ پر جائے اور چھاپا دوسرے شہروں میں جائے۔ تو ظاہر ہے اس سے معیار پر تو اثر پڑے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معیار اُن کا مسئلہ ہے یا صرف اخبار چھا پنا۔ تو اخبار تو چھاپنا ہے کیونکہ اشتھار چھاپنا ضروری ہے۔ یہی اُن کا نقطعہ نظر ہے اور وہ اس سے مطمئن ہیں۔ میڈیا میں آنے والے موجودہ مالی بحران کے پیش نظر اخبارات نے جو اقدامات کیے ہیں اس سے اخبار اور رپورٹنگ کا معیار متاثر ہوا ہے۔ کیونکہ جب ایک رپورٹر کئی ایک Beats   کررہا ہوگا تو اُس کی رپورٹنگ میں وہ جان تو نہیں رہے گی جو اُس کی اپنی Beat   جس کا وہ ماہر ہے اُس میں رہی ہوگی۔
ج6 ۔ اس وقت بہت سارے خصوصاً انگریزی اخبارات میں یہ بات طے شدہ ہے کہ اُن کی ڈیجیٹل سائیٹ یعنی ویب نیوز پیپر چھپے ہوئے اخبار کی نسبت زیادہ پڑھا جارہا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل سائٹس پر اخبارات کی زیادہ توجہ مرکوز ہوگئی ہے ۔ یہاں تک کہ ٹیلی ویژن چینل بھی اپنی ڈیجیٹل سائٹس کو بہت  Active  رکھتے ہیں اور اس پر توجہ دیتے ہیں۔ تو میرے خیال میں بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
ج7 ۔ بالکل ہو رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ جو آسانی اور ورائٹی آپ کو مل رہی ہے آپ کتنے اخبار خرید کر پڑھ سکتے ہیں ۔ انٹرنیٹ اب آسانی سے دستیاب ہے اتنا مہنگا کنکشن بھی نہیں ہوتا۔ لوگوں کے پاس کافی زیادہ سہولتیں ہیں وہ چلتے پھرتے موبائل فون پر پڑھ سکتے ہیں ۔لوگوں کے پاس ایک دنیا کھلی پڑی ہے دنیا کے جس کونے کا چاہیں وہ اخبار پڑھ سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل  Phenomena  نے آکر چھپے ہوئے اخبارات کی مقبولیت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ج8 ۔ ظاہر ہے بالکل پڑ رہا ہے کیوں نہیں پڑ رہا۔ جب آپ توجہ اور وسائل دونوں اخبار پر سے کم کر دیں گے۔ اور کوشش کی جائے کہ ایک ہی ڈیسک کئی ڈیسکس کا کام دیکھے یا ایک ہی فرد کئی جگہ پر کام کرے ۔ شارٹ سائزنگ کا ہونا ، اخبارات میں تنخواہوں کا بہت کم ہوناتو ان سب کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ معیار پہ اس کا اثر پڑے گا۔ جب معیار متاثر ہوگا تو ریڈر شپ پر بھی اثر پڑے گا۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے اخبارات کے لیے ۔ عام طور پر یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ اخبارات دم توڑ رہے ہیں۔ تو وہ کوئی محض مبالغہ آرائی نہیں ایسا بالکل حقیقت میں ہے کہ اگر یہی عالم رہا تو چھپے ہوئے اخبارات کی زندگیوں کو یقینا شدید خطرات لاحق ہیں۔
ج9۔ دیکھئے اخبارات کی ریڈر شپ بڑھانے کا سب سے بنیادی طریقہ یہ ہے کہ آپ خواندگی کی شرح کو بڑھائیں۔ لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا تو اخبارات کے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھے گی۔ اخبارات پڑھنے کے لئے آپ میں ایک خاص طرز فکر اور احساس کا ہونا ضروری ہے۔اور وہ تعلیم کے ساتھ بہت گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اخبارات کو وسائل چاہیے صلاحیتوں کی ضرورت ہے نئے لوگ اُسے درکار ہیں ۔زندہ رہنے کے لئے اُسے نئے خون کی ضرورت ہے ۔ یہ سب آپ اگر فراہم کریں گے تو اخبارات کی ریڈرشپ بھی بڑھے گی اس کی سرلوکیشن بھی بہتر ہوگی اور اخبارات میں کام کرنے والوں کی لگن اور دلچسپی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹر نوشینہ سلیم

ڈاکٹرنوشینہ سلیم،ڈائریکٹر،ادارہ علومِ ابلاغیات،
 جامعہ پنجاب ، لاہور۔
ج1 ۔ جی بالکل جب سے ڈیجیٹل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مارکیٹ کے اندر آئیں ہیںتو بہت واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اور آج کا ریڈر جو کہ نوجوان ہے وہ بالکل شفٹ کر گیا ہے ڈیجیٹل میڈیا پر۔ وہ سوشل میڈیا پر اخبارات پڑھ رہے ہیں وہ بھی صرف نیوز کی حد تک۔ خبر کے متن کی تفصیل میں وہ نہیں جاتے اور خبر کی ہیڈ لائن تک محدود ہو چکے ہیں۔جو 40 سال سے اوپر کے لوگ ہیں اور اُنھیں اخبار بینی کا شوق ہے وہ اخبارات پڑھتے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے کم ہو تی جارہی ہے۔
ج2 ۔ میڈیا کوئی بھی ہو اُسے جانبدار نہیں ہونا چاہیے۔ آزاد ہونا چاہیے۔ لیکن بڑی بد قسمتی ہے کہ ہماری کچھ میڈیا آرگنائزیشنز اُن کا Tilt   واضح نظر آتا ہے۔ تو کہنے کی بات یہ ہے کہ اکثر اخبارات آزاد نہیں ہیں۔ وہ حکومت کے ترجمان کے طور پرسامنے آتے ہیںیا وہ کسی سیاسی جماعت کے بھی ہوسکتے ہیں۔ کسی اکنامک گروپ کو بھی سپورٹ کر سکتے ہیں۔ اُنھی کی آواز اُنھی کے نظریات کا پر چار کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔غیر جانبداری کی طرف اُن کا رجحان نہیں رہا۔ بہت کم ایسے قارئین ہیں جو اِس وجہ سے اخبار چھوڑتے ہیں کہ اُس کا جھکا کسی پارٹی کی طرف، کسی تنظیم کی طرف یا کسی گروپ کی طرف ہے۔ تو میرا نہیں خیال ہے کہ ریڈر اتنی جلدی اِس بنیاد پر اخبار بینی کو چھوڑ دیں۔
ج3 ۔ جی بالکل۔ پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کے پاس تو آپ کو پتا ہے ٹرینڈ جرنلسٹ نہیں تھے۔ پروفیشنل جرنلزم کی کمی تھی۔ تو جو سارے پرنٹ میڈیا کے جرنلسٹ تھے وہ جاکر اینکر پرسن بن گئے۔ اُنھوں نے ہی ادارے کو اور ٹی وی صحافت کو کامیاب بنایا۔ جس سے اخبارات میں اچھے جرنلسٹس کا فقدان ہوگیا۔ دوسری بات ٹی وی پر معاشی فوائد بھی زیادہ تھے اس لیے وہ سوئچ اُور ہوگئے۔ تیسری وجہ اخبارات کی کافی کنٹرول پالیسیز ہوتی ہیں مانیٹر بھی ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ٹی وی پر آن ائیر کوئی بھی کچھ کہہ جائے شرکاءکے منہ سے آپ بہت کچھ کہلوا لیتے ہیں۔ جبکہ اخبار کے چھپے ہوئے ایک ایک لفظ کا ادارہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیوز چینلز نے اخبارات کے معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے اُس کے مندرجات کو متاثر کیا ہے ۔ کیونکہ اُن کے لکھنے والے جتنے بھی حضرات تھے وہ کسی نہ کسی طرح پر الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بن گے ہیں اس سے بھی اخبارات کو بہت نقصان دیکھنا پڑا۔
ج4 ۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہر دور میں اشتھارات اخبارات یا کسی بھی میڈیا آرگنائزیشن کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ اگر اشتھار ہیں تو اخبار  Sustain  کرتے ہیں۔ اُس میں جتنے ملازمین ہیں اُن کی تنخواہیں اور دیگر ساری چیزیں  Manage  ہوتی ہیں۔ قاری اگر اخبار کے ساتھ جڑا رہتا ہے اُس کے نظریات اور لکھنے کے انداز کو وہ پسند کرتا ہے تو میرا نہیں خیال کے اشتھارات کی وجہ سے وہ اخبار کو پڑھنا چھوڑ دے۔
ج 5 ۔ جی میرا نہیں خیال۔ہر پروفیشنل آرگنائزیشنز کا اپنا ایک Decorum  ہوتا ہے ان کی اپنی پالسیز ہوتی ہیں جو تمام ملازمین کو  Follow  کرنی پڑتی ہیں۔ بہت کم قارئین ایسے ہوتے ہیں جنہیں یہ پتا ہو کہ وہ جس لکھاری کو پسند کرتے ہیں اُس کو اغوا کر لیا گیا ہے ۔ سائیڈ لائن کردیا گیا یا اُسے جاب سے نکال دیا گیا ۔میرا نہیں خیال کہ ڈائریکٹ کسی کارکن کی وجہ سے اخبار کی ریڈر شپ یا اُس کی سرکولیشن متاثر ہوتی ہے۔ ہاںسیکورٹی خدشات کی وجہ سے جرنلسٹ بہت زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ جس کا آرگنائزیشن پر تھوڑا سا اثر پڑتا ہے۔صحافیوں کے اپنے ذاتی مسائل ریڈر شپ کو متاثر نہیں کرتے۔
ج6 ۔ میں کہتی ہوں100 فیصد۔ آج کے جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اس میں ڈیجیٹل میڈیا ایک انقلاب لے آیا ہے۔ کئی ایک ٹیکنالوجیز جس میں کیمرہ، ریڈیو، ٹی وی، فلم بنانا کو ایک ڈیوائس میں یکجا کردیا گیا ہے۔تو ڈیجیٹل میڈیا کے اخبارات پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ آج ہر بندہ صحافی بن چکا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے اُسے ایک نیوز کی صورت میں  Upload  کر دیتا ہے اور اس کے لیے اُسے کسی فارمل ٹریننگ کی بھی ضرورت نہیں۔ آج کل ایسے بہت سارے واقعات ہیں جو میڈیا کو بعد میں رپورٹ ہوتے ہیں لیکن موبائل کے کیمرے کی آنکھ میں پہلے رپورٹ ہو جاتے ہیں۔ اُس پر خبر بھی بن جاتی ہے اور وہ Upload    بھی ہو جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر Proper hype create   ہوجاتی ہے۔ یوں ڈیجیٹل میڈیا نے آپ کی فارمل جرنلزم کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ کیا کہنا ہے کس انداز میں کہنا ہے۔ زبان کیسی استعمال کرنی ہے ان سب سے ماورہ جو منہ میں آتا ہے کہہ دیا جاتا ہے۔اس کے سوسائٹی پر بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ج7۔ جی بالکل میں نے اپنی بات کا آغاز اسی سے کیا تھا۔ کہ پرنٹ میڈیا کی پبلیکشن کا اگر صحیح سروے کرایا جائے تو پتا چلے گا کہ یہ مخدوش ہو چکی ہے۔ اخبارات نے صرف اپنا نام بچانا ہے۔ عزت اور ساکھ بچانی ہے سرکولیشن اُن کی وہ نہیں رہی ۔آج لوگ ڈیجیٹل میڈیا اور ڈیجیٹل اخبارات کی طرف جا رہے ہیں۔اب ہر ادارے کی مجبوری بن چکی ہے ای پیپر نکالنا۔آج کا جو بزنس ہے وہ آن لائن شفٹ ہو چکا ہے اب جوروایتی جرنلزم ہے جو روایتی مارکیٹنگ کے  Prospective  تھے وہ تبدیل ہوگئے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا زیادہ تیزی سے زیادہ  Aggressively  لوگوں کے اندر Penetrate کر رہا ہے۔
ج8 ۔ جی میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔ مالکان کی اب زیادہ توجہ الیکٹرانک Content  کی طرف ہے۔ کیونکہ اُنھیں وہاں زیادہ بزنس ملتا ہے۔
ج9 ۔ یہ بہت اہم اور مشکل سوال ہے۔ اس میں ایک چیز ہوسکتی ہے کہ کمیونٹی پریس نکالا جائے۔ ریجنل پریس نکالا جائے وہ کسی حد تک لوکل کمیونٹی کے اندر اور لوکل لیول پر کچھ نہ کچھ چیزوں کو Fulfill   کرسکے گا۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل یا الیکٹرانک پیپر چھاپے جاتے رہیں تو لوگ اِن کو پڑھتے رہیں گے۔ میرا نہیں خیال کہ مجھے اخبارات کی انڈسٹری کا اتنا زیادہ کوئی  Wide scope  نظر آرہا ہے۔
ڈاکٹر فیض اللہ جان

ڈاکٹر فیض اللہ جان، چیئر مین،
 شعبہ ابلاغیات ، پشاور یونیورسٹی۔
ج1 ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ورلڈ وائڈ اور خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں کافی حد تک اخبارات کے پرنٹ ایڈیشن کی ریڈر شپ کم ہوئی ہے۔ زیادہ تر لوگ اب اخبارات کو انٹرنیٹ پر پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی ایک مقبول اخبارات اور میگزینز نے اپنا پرنٹ ایڈیشن بند کر دیا ہے۔ مثلاً امریکہ کے مشہور میگزینز ٹائمز اور نیوزویک نے اپنا پرنٹ ایڈیشن زیادہ ریڈرز نہ ہونے کی وجہ سے بند کردیا ہے۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخبارات کی ریڈرر شپ کم نہیں ہوئی بلکہ پرنٹ اخبار سے سوئچ کر کے الیکٹرانک ورژن کی طرف چلی گئی ہے۔یعنی پرنٹ اخبار کی سرکولیشن پر تو اثرپڑاہے لیکن نیوز پیپر کی ریڈر شپ پر شاید اتنا نہیں۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو آج سے چار یا پانچ سال پہلے تک کا ڈیٹا یہ تھا کہ پاکستان اور ہندوستان یہ دو ایسے ممالک ہیں جہاں انٹر نیٹ کے دور میں بھی اخبارات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک یہ کہ انٹر نیٹ پاکستان میں  Universally distributed  نہیں ہے۔ یعنی پاکستان کے جو دور افتادہ علاقے ،رورل ایریاز میں انٹر نیٹ دستیاب نہیں ہے۔ انٹر نیٹ بڑے شہروں میں ہے یا شہروں کے نزدیک جو دیہی علاقے ہیں وہاں دستیاب ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کمپیوٹر پر اخبار پڑنے کے لیے صرف انٹر نیٹ کی ضرورت نہیں اس کے علاوہ بجلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو دیہی علاقوں میں بجلی 24 گھنٹے دستیاب نہیں۔ تو اس وجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں اخبارات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک جرمن آرگنائزیشن کے لیے پاکستان میں اسلام آباد Based   ایک آرگنائزیشن نے ایک اسٹڈی کی ہے اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے ہاں اخبارات جو ہیں ان کی سرکولیشن میں بھی کمی آرہی ہے لیکن مغرب جتنی نہیں۔
ج2 ۔ اخبارات پہلے بھی غیر جانبدار نہیںتھے۔ لیکن ہمیں غیر جانبدار کی اصطلاح کی وضاحت کرنا ہوگی۔ میں اکیڈمک کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اخبار کو غیر جانبدار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اخبارات نے کام کرنا ہے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے میں ان کی مدد کرنا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اخبارات کو لوگوں کے حق میں جانبدار ہونا چاہیے۔ جو طبقے یا ادارے عوام کا استحصال کرتے ہیں اُن کے خلاف اُنھوں نے جانبدار ہونا ہے۔ تو بہت ضروری ہے کہ اخبارات کے لیے کہ وہ غیر جانبدار نہ ہوں۔ لیکن غیر جانبدار سے اگر آپ کی مرادObjectively   ہو تو پھر اُس پر الگ سے بات ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں اخبارات  Objective  ہیں یا نہیں۔میرے خیال میں اخبار جانبدار ہے یا نہیں اس کا ریڈرشپ پر اثر ضرور پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر عام آدمی اخبار کیوں خریدے اگر اخبار میں عام آدمی کی زندگی سے متعلق خبر نہ چھپے۔ اُس کا  Perspective  نہ چھپے۔ پھر وہ روزانہ 15 روپے یا20 روپے کا اخبار کیوں خریدیں۔تو میرے خیال میں اگر اخبارات کا ٹارگٹ یہ ہے کہ وہ لوگوں میں مقبول رہے اور لوگ اُسے خریدیں تو بہت ضروری ہے کہ اُس اخبار میں عام قاری کی خبریں چھپیں ۔اُس کا  Perspective  اُس کی Opinion   اخبار میں شامل ہو تو لوگ اخبار کو اپنی آواز سمجھ کر اِسے ضرور خریدیں گے۔
ج3 ۔ میرا خیال میں کوالٹی کی بات اگر میں نہ بھی کروں تو پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز نے بہت اثر ڈالا ہے۔ اور یہ بھی ورلڈ وائڈ ہے صرف پاکستان میں نہیں۔ یعنی جب تک پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز پاکستان میں نہیں آئے تھے ۔ تو لوگ اخبار اس لیے پڑھتے تھے کہ ان کو انفارمیشن ملے اور انفارمیشن کے ساتھ ساتھ اُن کو رائے بھی ملے۔ لیکن اب یہ انفارمیشن والا عنصر جو ہے اس کی ذمہ داری اخبارات سے ٹیلی ویژن والوں نے لے لی ہے۔ اب ٹیلی ویژن چینلزہر گھنٹے اور بریکنگ نیوز کی صورت میں لوگوں کو تازہ ترین اطلاعات مہیا کر رہے ہیں۔لیکن پھر اخبارات زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟میرے خیال میں اخبارات کو نیوز کے ساتھ  Context  بھی دینا ہوگا۔ تو لوگ اخبار پڑھیں گے۔ کیونکہ انفارمیشن اِن کو ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور ریڈیو سے مل جاتی ہے۔ لیکن چونکہ ٹی وی اور ریڈیو کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ہر خبر کا Context   بھی لوگوں کو دیں۔ لہذا اخبارات کو خبر کو  Context  کے ساتھ  Editorialized  کر کے پیش کرنا ہوگا تو پھر اخبارات ٹیلی ویژن اور ریڈیو کا مقابلہ کر سکیں گے۔
ج4 ۔ میرا خیال میں ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کیونکہ اخبارات پاکستان میں اور دنیا کے کئی ممالک میں ایک صنعت بن چکے ہیں۔ لوگ پیسہ کمانے یا طاقت کے حصول کے لیے جس سے وہ مزید پیسہ کما سکیں اس غرض سے اخبارات شروع کرتے ہیں۔ لہذا جو اخبارات سرکاری اشتھارات پر اور جو بڑی بڑی کمپنیوں اور کارپوریشنز کے اشتھارات پر dependent   ہوتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی رائے میں آزاد ہیں۔ کیونکہ ہر اشتھار کے ساتھ ایک  Editorial Influence  بھی آتا ہے۔ پاکستان میں کئی مثالیں ہیں کہ اشتھار دینے والوں نے باقاعدہ اخبارات ، ٹیلی ویژن کو Influence   کرتے ہوئے اُن کے ملازمین کو بر طرف کروایا۔ تو جب تک اخبارات اشتھارات کے لیے بڑی بڑی کمپنیوں کی طرف، حکومت اور حکومتی اداروں کی طرف دیکھتے رہیں گے اُن کا جو اسٹینڈرڈ ہے وہ کمپرومائز ہوگا۔
ج5 ۔ صحافیوں کے مالی اور سیکورٹی کے مسائل کو ریڈر شپ کے ساتھ لنک کرنے کے لئے Empirical Evidence   کی ضرورت ہوگی جو اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے۔
ج6 ۔ میرے خیال میںاس حوالے سے پچھلے سوالات میں کافی بات ہو چکی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا لوگوں کو انفارمیشن مہیا کرتا ہے  Context نہیں ۔ اخبارات کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ انفارمیشن کو   Context کے اندر رہتے ہوئے لوگوں تک پہنچائے تو پھر ریڈر شپ کو بچا یا جا سکتا ہے۔
ج7 ۔ یہ Depend   کرتا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کتنی تیزی سے پھیلتا ہے اور لوگوں کے لیے کتنا سستا دستیاب ہے۔ اُس کی سپیڈ کیسی ہے ۔دوسری بات صرف انٹرنیٹ اور اُس کی قیمت ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی دوسری چیزیںمثال کے طور پر سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، کمپیوٹراورٹیبلٹس وغیرہ یہ چیزیں بھی  Matter  کرتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں اور سہولیات کسی کے پاس ہوں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قارئین جو ہیں وہ آسانی سے ڈیجیٹل یعنی آن لائن اخبارات کی طرف منتقل ہوں گے۔
ج8۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ٹیلی ویژن بڑے Influential   میڈیم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اور اس سے پیسے بھی جلدی کمائے جا سکتے ہیں۔ چینلز پر بطور ایکسپرٹ جن سیاستدانوں ، بیورو کریٹس اور Celebrities کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ یہ لوگ  Advertisement pullers  بھی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں  Celebrity Journalism  کا نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اینکر پرسن جو ہیں وہ اپنے چینل اور اپنے اخبارات سے اپنی ذات میں بہت بڑے بن جاتے ہیں۔ تو لوگ پھر چینل کے لیے ٹی وی نہیں دیکھتے ان Celebrity Anchorperson   کے لیے دیکھتے ہیں۔
ج9 ۔ پہلی بات تو یہ کہ ملک میں تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ اخبار جو ہے وہ خواندہ لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ دوسرا جو بہت ضروری کام ہے جو پاکستان میں نہیں وہ میڈیا لٹریسی ہے۔ لوگوں کو اس بارے میں  Educate  کرنے کی ضرورت ہے کہ میڈیا کی کیا ذمہ داری ہے اُسے کیا کرنا چاہیے۔ میڈیا کس کو  Responsible  ہے اور کس کو نہیں۔ تو میرے خیال میں اگر میڈیا لیٹرسی کو فروغ دیا جائے تو اس سے بھی ریڈر شپ میں اضافہ ہوگا۔ اخبار کو پڑھنا ہمیشہ سے ایک  Cultural Activity  رہی ہے۔تو میرے خیال میں انفرادی سطح پر جو لوگ  Afford  کرسکتے ہیں وہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے استعمال کے ساتھ ساتھ روزانہ ایک اخبار گھر میں لائیں۔ تاکہ گھر کے تمام افراد کو یہ احساس ہو کہ اخبار جو ہے وہ فیملی کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کے علاوہ سول سو سائٹی اور ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹس کو چاہیے کہ وہ اسٹڈی سرکل کا انعقاد کریں جہاں اخبارات پڑھنے کی اہمیت پر بات ہو ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آرگنائزیشن اس طرح کی سرگرمی کر لے کے آٹھ سے دس لوگ روزانہ کہیں اکٹھے ہوں مل بیٹھ کر اخبارپڑھیں اور پھر اُس کے مندرجات کو آپس میں Discuss   کریں ۔ تو یہ ایک طریقہ ہو سکتا ہے جس سے اخبار کی ریڈر شپ کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
فہیم بلوچ

فہیم بلوچ، چیئر مین، شعبہ ابلاغیات، 
  یو نیورسٹی آف بلوچستان ، کوئٹہ۔
ج1۔ جی گزشتہ چند سالوں میں خاص طور پر سوشل میڈیا کی آمد کے بعد اخباری قارئین کی ملک میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ریڈر شپ اب اتنی اچھی نہیں جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ لوگ پڑھنے کی بجائے دیکھنے والے بنتے جا رہے ہیں وہ ویڈیوز دیکھنے اور اُنھیں شئیر کرنے میں مصروف ہیں جو کہ اخبارت کے لیے ایک اچھی علامت نہیں ہے۔
ج2 ۔ اخبارات اپنی بقا کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں جس کے لیے اُنھیں بہت سارے سمجھوتے کرنا پڑ رہے ہیں۔ اور ان میں سے ایک معاشرے کے بڑوں کی طرف داری ہے۔ جس کا اخبار کے مندرجات پر اثر پڑتا ہے کیونکہ مواد ہمیشہ اخبار کے ساتھ قارئین کی وفاداری کی سطح کا فیصلہ کرتا ہے۔
ج3 ۔ ٹی وی نیوز چینلز نے مجموعی طور پر اخبارات کے قارئین کو متاثر کیا ہے۔ نجی نیوز چینلز کی آمد سے پہلے اخبارات اطلاعات کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ لیکن اب نیوز چینلز بغیر کسی تاخیر کے خبریں مہیا کر رہے ہیں۔ کسی بھی واقعہ کی خبر اب منٹوں میں نشر کی جاتی ہے ماضی میں کسی واقعہ کے بارے میں جاننے کے لیے اگلے دن کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جب اخبار قاری کے پاس پہنچتا تھا۔
ج4 ۔ یہ حقیقت ہے کہ اخباری مالکان پیسہ کمانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے مبرا کہ قارئین کو کیا پسند ہے اور کیا نا پسند۔ اس کو بڑی آسانی سے اخباروں میں اشتھارات کی  Placement  کے تناظر دیکھا جا سکتا ہے۔ بڑے اخبارات کے فرنٹ پیج خبروں کی بجائے اشتھارات سے مزئین ہوتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں زیادہ سے زیادہ خبریں دیکھنے کہ متمنی ہوتے ہیں خاص کر فرنٹ پیج پر لیکن اُنھیں وہاں بڑے بڑے اشتھارات دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔ وہ اخبارات جن کے اپنے ٹی وی چینلز ہیں وہ اپنے اخبارات میں اپنے ٹی وی پروگراموں یا ڈراموں کی تشہیر کا مواد شائع کرتے ہیں جوکہ اخبار کے ایک بڑے حصہ پر مشتمل ہوتا ہے۔
ج5 ۔ اخبارات کے صحافی تنخواہوں کے پیکج کے حوالے سے ٹیلی ویژن میں کام کرنے والوں کی نسبت اتنے خوش قسمت نہیں۔ پرنٹ میڈیا کے لیے کام کرنے والے بیشتر صحافی ٹیلی ویژن سے وابستہ صحافیوں کے مقابلے میں جو حاصل کرتے ہیں اس سے وہ مطمئین نہیں ہیں۔ کیونکہ ٹی وی صحافیوں کی تنخواہیں اُن کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ یہ چیز پرنٹ جرنلزم سے وابستہ صحافیوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ پوری دل جمعی سے کام نہیں کر پاتے اور ہمیشہ ٹی وی چینلز میں جانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ چیز اخبار کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس کے علاوہ صحافیوں کے لیے پیشہ ورانہ کارکردگی کا مطاہرہ کرنے میںاُن کی سیکورٹی ایک بہت بڑا مسئلہ اور رکاوٹ ہے۔ زیادہ تر وہ کسی ایسے خیال یا موضوع پر کام نہیں کر سکتے جس کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ وہ اس سے زیادہ قارئین کو راغب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ وہ مشاہدہ تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنی تحریروں میں اس کی عکاسی نہیں کر سکتے۔ جس کے نتیجے میں اخبارات میں سطحی نوعیت کا مواد دیکھا جاتا ہے۔ تحقیقی صحافت کا تصور صرف جرنلزم کی نصابی کتب میں ہی دستیاب ہے جس پر کھلے عام عمل نہیں کیا جاسکتا۔افتتاحی تقاریب، کھیلوں کے مقابلے، شجر کاری کے بارے میں آگاہی واک جیسی  Soft  نیوز قارئین کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹوں کا مندرجات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان حالات میں معیاری مواد تیار نہیں کیا جا سکتا۔
ج6 ۔ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ صحافت کے شعبے میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔لوگ نئی ٹیکنالوجیز اپنا رہے ہیںجو تیز اور آسانی سے دستیاب ہیں۔ حتیٰ کہ اخباری ادارے بھی اس تبدیلی کا مقابلہ نہیں کر سکے اور زیادہ قارئین کو راغب کرنے اور مواد کو قارئین کی وسیع تعداد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں لو گوں کی ایک بڑی تعداد نے طباعت شدہ اخبار چھوڑ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا رخ کیا ہے۔ اخبارات کے قارئین کو کم کرنے میں ڈیجیٹل میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ لوگ کسی بھی مسئلہ میں آگہی حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ اخبارات سے تیز ہیں لیکن ان کی ساکھ کے حوالے سے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ج7 ۔ ای اخبارت کی دستیابی اور سہولت نے قارئین کو طباعت شدہ اخبار سے ڈیجیٹل اخبارات کی طرف موڑ دیا ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیااور انٹر نیٹ کو کسی بھی دوسرے میڈیا کی نسبت زیادہ وقت دے رہی ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ای اخبار کو ترجیح دیتے ہیں۔ سینئر نسل اب بھی پرنٹ اخبارات کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ وہ اسے زیادہ آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں بانسبت نئے ڈیجیٹل آلات کے۔ 
ج8 ۔ جی ٹی وی چینلز کے مالکان اخبارات کی بجائے چینلز کو زیادہ اہمیت اور توجہ دے رہے ہیں۔ نیوز چینلز اخبارات کی نسبت زیادہ محصول اکٹھا کرتے ہیں۔ ایڈورٹائزر کی توجہ بھی ٹی وی چینلز پر زیادہ ہے۔ وہ اخبارات کی نسبت چینلز کو زیادہ اشتھار اور معاوضہ دیتے ہیں۔ دوسری جانب ٹی وی چینلز کی زیادہ آمدن کے سبب وہ اپنی ٹیم کو اچھی تنخواہیں دیتے ہیں۔ جبکہ اخبارات کے عملے کو اچھی تنخواہیں نہیں ملتیں۔ مالکان کے اس طرز عمل سے اخباری مواد پر بھی اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ وہ پرنٹ میڈیا کو نظر انداز کرتے ہیں .ہیرالڈ میگزین کی حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے جو کئی دہائیوں تک اشاعت کے بعد بند کردیا گیا کیونکہ حالیہ برسوں میں اُس کے پاس زیادہ قارئین نہیں تھے۔ اس طرح کی پبلیکیشنز کی بندش ایک تشویش ناک صورتحال ہے اگر ایک نامور اور مستند رسالہ اپنی بقا کو قائم نہیں رکھ سکا تو پھر کم اشاعت والی پبلیکیشنز کا کیا حال ہوگا۔
ج9۔ دوسرے پلیٹ فارمز کی موجودگی میں اخبارات کے قارئین کو زندہ کرنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اس مسئلہ کا بین الاقوامی اخبارات کو بھی سامنا ہے۔ دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اسی طرح اطلاعات کا بہا بھی ۔ لوگ خبروں کے لیے انتظار یا اخبار پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اخبارات کو زندہ رہنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی۔ اُسے ایسا مواد فراہم کرنا پڑے گا جو انٹر نیٹ یا ٹی وی پر آسانی سے دستیاب نہ ہو۔ اس مواد کو دوسرے مسابقتی پلیٹ فارمز سے مقابلہ کرنا ہوگا تب ہی قارئین اخباروں کی جانب راغب ہوں گے۔
راشد حسین

راشدحسین، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، ماس کمیونیکشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز، قراقرم انٹر نیشنل یو نیورسٹی، گلگت۔
ج 1 ۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے پھیلا سے اخبارات کی افادیت ختم ہورہی ہے اور پرنٹ انڈسٹری سمٹ کر ویب سائٹس پر آرہی ہے۔
ج2۔ اخبارات کے مالکان اپنے ذاتی کاروباری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایجنڈا ترتیب دیتے ہیں اور مفادات کے حصول کے لیے صحافتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انکی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔
ج3۔ نیوز چینلز نے سنسنی خیزی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اخبارات کی جو صحافتی زبان ہے اس کو بھی متاثر کیا ہے ۔ بریکنگ نیوز کلچر نے اخبارات کو بھی اس حد تک مجبور کیا ہے کہ وہ مصالحہ دار زبان کو سرخیوں میں استعمال کرے ہے۔ جو ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔
ج4 ۔ اخبارات کی ترجیح اشتھارات ہے۔
ج5۔ نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری خود میڈیا انڈسٹری پر ہے جو تحقیقی صحافت کی بجائے پریس ریلیز اور ایجنسی کریڈز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ تمام اخبارات میں ایک قسم کا کنٹینٹ ہوتا ہے تو پڑھنے والوں کی دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے۔
ج6 ۔ بہت زیادہ اگر پہلے 100 لوگ اخبار کی کاپی خرید کر پڑھتے تھے تو اب ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے 2 سے3 فیصد پر آگئی ہے ریڈر شپ۔
ج7۔ جی پرنٹ سے آن لائن کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔
ج8 ۔ بالکل مالکان کے کاروباری ذہن کی عکاسی ہے۔ جہاں زیادہ ملے وہاں انوسٹ کیا جاتا ہے۔ مالکان کی اکثریت صحافت کو ذریعہ کاروبار سمجھتی ہے۔ اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف شفٹنگ بھی اسی سوچ کی عکاس ہے۔
ج9 ۔ تجاویز تو بہت ہیں لیکن ڈیجیٹل ایج میں لوگوں کو روایتی صفحوں کی طرف موڑنا بہت بڑا چیلنج ہے جو ناممکن ہے۔
ڈاکٹربخت روان

ڈاکٹر بخت روان، شعبہ ابلاغیات، علامہ اقبال اوپن یو نیورسٹی، اسلام آباد۔
ج1 ۔ پاکستان میں اور پوری دنیا میں اخبارات کی ریڈرشپ اور سرکولیشن کمی کی طرف جارہی ہے۔ جو نئی ٹیکنالوجی ماس کمیونیکشن کی فیلڈ میں آئی ہے وہ وجہ ہے اس کی۔ اخبار ہارڈ کاپی کی بجائے لپ ٹاپ میں آپ کے موبائل پر آگیا ہے۔ تو سرکولیشن کی کمی کی وجہ تو یہ ہے۔ جو ریڈر شپ ہے اُس کا موڈ چینج ہو گیا ہے اب ہارڈ کاپی کی بجائے لوگ آن لائن اخبارات کی طرف آرہے ہیں۔
ج2 ۔ یہ حقیقت ہے اور کئی ریسرچ اسٹڈیز سے یہ بات واضح ہے کہ اخبار بلکہ کوئی بھی ماس میڈیم غیر جانبدار نہیں۔ چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی۔ اُن کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں جو سیاسی بھی ہوسکتے ہیں اور کمرشل بھی۔ آجکل کمرشل ازم زیادہ ہے اور اشتھار ایک ہتھیار ہے جس کی وجہ سے ایڈورٹائزر یا جو بھی پارٹی ہے وہ اخبار یا دیگر ماس میڈیم کے  Content  کو اپنے حق میں اور دوسروں کے خلاف Manipulate   کرواتا ہے۔ اخبارات یا دیگر ماس میڈیم شروع سے ہی پارٹیز میں یا حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ یہ فلاں سیاسی جماعت کو یا فلاں گروپ کو فلاں انفرادی کو یا حکومت کو یا اپوزیشن کو سپورٹ کرتے ہیںاور آج بھی کر رہے ہیں۔ جو  Neutral  بندہ ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس میڈیا آرگنائزیشن کا کسی پارٹی کی طرف زیادہ جھکا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اگلے دن کہے کہ یہ میں نے نہیں پڑھنا۔ اس طرح ایک سیاسی جماعت کی طرف جھکا رکھنے والے اخبار کو دوسری سیاسی جماعت کے کارکن پسند نہیں کریں گے۔
ج3 ۔ اس کو ہم دو پہلوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک تو اس کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مقابلہ پیدا ہوگیا ہے۔پرنٹ میڈیا جو پہلے بہت پرانی خبریں شائع کرتا تھا۔ اب وہ بھی جدید ٹیکنالوجی اپنا کر جرنلزم کو آن لائن کر تے ہوئے اپنے مندرجات کو تازہ ترین بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن اخبار اب بھی ہے اور رہے گا کیونکہ اس میں  Content  جو ہے وہ اب ایڈیٹوریل ہے۔ کالمز ہیں فیچرز ہیں اور ٹی وی نیوز چینلز آپ کو ہیڈ لائن کی صورت میں خبر دیتے ہیں ۔ بہت مختصر خبر ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ اگلے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں۔
ج4 ۔ یہ دونوں چیزیں ہیں اُس کی ترجیح اخبار بھی ہے اور قاری بھی۔ کیونکہ قاری کے بغیر اشتھار نہیں اور اشتھار کے بغیر قاری نہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جس اخبار کی ریڈر شپ زیادہ ہوتی ہے سرکولیشن زیادہ ہوتی ہے ۔ اُس کو جو اشتھار ملتا ہے وہ اُس کی قیمت بھی زیادہ چارج کرتے ہیں بانسبت کم ریڈر شپ اور سرکولیشن والے اخبارات کے۔ایڈواٹائزر کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اُن کا اشتھار اُسی اخبار میں شائع ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ اس لیے یہ Depend کرتا ہے کہ جتنے زیادہ ریڈر ہوں گے اتنی اشتھار کی قیمت زیادہ ہوگی۔ اس لئے اخبار کے لیے ریڈر شپ کو  Maintain  رکھنا اہم ہے ۔اُس نے اُنھیں ناراض بھی نہیں کرنا اُن کی مرضی کا مواد بھی دینا ہے ۔ آج میڈیا ایک انڈسٹری ہے اور کوئی بھی انڈ سٹری گھاٹے کا سودا نہیں کرتی۔ اور جو بنیادی چیز ہے وہ اشتھار سے پیسہ کمانا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر انڈ سٹری نہیں چل سکتی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے ریڑھ کی ہڈی کے بغیر Survive   نہیں کیا جاسکتا۔
ج5 ۔ میرا نہیں خیال کہ جو ریڈر ہے اُسے یہ پتا ہو کہ صحافی کو کون کونسے مسائل درپیش ہیں۔ وہ تو   Contentکو دیکھتا ہے ۔ اُس کو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ Content   کا جو Process   تھا وہ کیا تھا۔ کس نے لکھا۔ کس نے ایڈیٹ کیا اور میرے پاس کس طرح پہنچا۔ اب اُس کی کوالٹی کیا ہے۔ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریڈر کو مواد صحیح ملتا ہے کہ نہیں یہ چیز Matter   کرتی ہے۔ ہاں اگر صحافیوں کو سیکورٹی خطرات ہیں تو وہ پھر Content   پر کمپرومائز کرتے ہیں۔ وہ سچ نہیں لکھ سکتے خصوصاً کانفلیکٹ زون میں اُسے ہر کوئی مجبورکرتا ہے کہ میرے پوائنٹ آف ویو کی تشہیر کرے۔ تو اُس میں نقصان جو ہے وہ قاری کا ہوتا ہے اور قاری تک سچ نہیں پہنچتا۔
ج6 ۔ اس سوال پرکے حوالے سے اوپر بات ہو چکی ہے۔
ج7 ۔ ہاں میرے خیال میں یہ جو آن لائن والی ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ ہوئی ہے۔ اس سے قاری کہیں پر بھی اپنے موبائل یا لپ ٹاپ پر اپنی ضرورت کے مطابق جو   Content اُسے پسند ہے دیکھ سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ ایک لحاظ سے فری بھی ہوتا ہے۔ تو یہ بات بالکل درست ہے کہ یہ اب اس طرف منتقل ہورہے ہیں۔
ج8 ۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مالکان جن کی کراس میڈیا اونر شپ ہے ۔ جن کا ٹیلی ویژن چینل بھی ہے ریڈیو چینل بھی اور اخبار بھی۔ اُن کے لیے تو یہ سوال  Relevant  ہے۔ جیسے آپ نے بڑے گروپس کی بات کی تو یہ بالکل صحیح ہے کہ جو مالکان جن کی ایک سے زائد نیوز آرگنائزیشنز ہوتی ہیں اُس کی سوچ ہر جگہ نظر آتی ہے۔جس سے Content   میں آپ کو Variety   نہیں ملتی۔ کیونکہ اخباراور نیوز چینل کسی ایک فرد کا ہوتا ہے ۔ تو میڈیا  User  کے پاس چوائس نہیں ہوتی اور اُسے انگریزی ، اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میں کوئی  Variation  نہیں ملتی۔ جو  Content  ٹی وی پروگراموں میں پیش کیا جاتا ہے اگلے دن وہ سب کچھ آپ کو اخبار میں ملتا ہے اس طرح Content   میں تنوع نہیں رہتا۔ اور جہاں تک بات ہے زیادہ توجہ دینے کی تو چونکہ الیکٹرانک میڈیا کو آج کل دور ہے تو اِن کی زیادہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کو بہتر بنائیں اور لوگوں تک پہنچائیں۔
ج9 ۔ میں تھوڑا سا  Theoretical Perspective  میں بات کروں گا۔ ایک ابلاغی تھیوری  Uses and gratification  ہے جو ہم اسٹوڈنٹس کو پڑھاتے ہیں یہ ورلڈ وائڈ ٹیسٹڈ ہے اس پر بہت ساری ریسرچ ہو چکی ہے۔ اس کے مطابق ریڈر یا کنزیومر اپنی ضرورت کے مطابق  Content  کو میڈیا سے Select   کرتا ہے۔ میڈیا کا استعمال اُس طریقے سے کرتا ہے جو اُس کی  Needs  ہے۔لہذامیڈیا کی جو بھی صورت ہے پرنٹ یا الیکٹرانک اس پر ریسرچ کی ضرورت ہے۔کہ جو سامعین، ناظرین اور قارئین ہیں اُن کی ضروریات کیا ہیں۔ وہ کس  Content  کو پسند کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ٹارگٹ گروپ کی Needs کے مطابق جب میڈیا اپنا Content   تیار کے گا تو میرا خیال ہے پھر ریڈر شپ یا جوبھی مارکیٹ ہے وہ بہتر ہو جائے گی۔
ڈاکٹرعرفان احمد بیگ

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ    ( تمغہ امتیاز )
سینئر صحافی ،کوئٹہ۔
ج1 ۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں تک جب ملک کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے ساڑھے چار یا پانچ کروڑ کے درمیان تھی اور شرح خواندگی تقریباً 30 فیصد تھی۔ تو آج کے مقابلے میں اُس وقت قومی اخبارات کی اشاعت دگنی سے زیادہ تھی۔ اور یہ عام رجحان تھا کہ ایک اخبار اوسطاً سات سے آٹھ افراد پڑھتے تھے۔ آج ملک کی آبادی تقریبا ً 22 کروڑ ہے شرح خواندگی 56 فیصد ہے۔ یہ درست ہے کہ آج قومی اخبارات کی فہرست گزشتہ چالیس پچاس برسوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے مگر اِن کی مجموعی تعداد اشاعت ماضی قریب کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔اس وقت صوبائی اور مقامی سطح پر پی آئی ڈی اور ڈی جی پی آر آفسز میں قومی اور مقامی اخبارات کی جو سرکولیشن (تعداد اشاعت) ریکارڈ پر ہے۔ عموماً وہ بھی درست نہیں ہے۔ اخبارات کے مالکان تعداد اشاعت اب تک اس لیے زیادہ لکھواتے رہے کہ اس کی بنیاد پر اشتھارات کے نرخ زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن اب نئی حکومتی پالیسی کے تحت ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات کی وجہ سے اگر کسی اخبار کی تعداد اشاعت سرکاری ریکارڈ پر زیادہ ہوگی تو اُسے زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔ اس لیے اب2020 تک سرکاری ریکارڈ سے بھی واضح ہو جائے گا کہ اخبارات کی حقیقی اشاعت اور ریڈر شپ کتنی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کے مقابلے میں پاکستان میںاخبارات کی ریڈر شپ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ج2 ۔ اخبارات روز شائع ہوتے ہیں اور خبر، تبصرے، ادارئیے اور تجزیئے خود ہی اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ جانبدار ہےں یا نہیں۔ جہاں تک اخبارات کی غیر جانبداری کا تعلق ہے تو بہت سے اخبارات ماضی میں بھی غیر جانبدار نہیں تھے۔ مگر اُس وقت اخبارات کی جانبداری نظریاتی بنیادوں پر ہوتی تھی۔ اور صحافت کو نامور لکھاری، دانشور مشن قرار دیتے تھے۔ لیکن پھر عمدہ اور خالص صحافت غیر جانبدارانہ اور پیشہ وارانہ صحافت کہلانے لگی۔ 1990 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نظریاتی جانبداری ختم ہو گئی مگر بد قسمتی سے کمر شل ازم کو تقویت ملی اور اخبارات کی جانبداری مالی مفادات اور شخصیات کی طرفداری پر مبنی ہو گئی۔ اور اس سے واقعی اخبار بینی میں کمی واقع ہوئی یا یوں کہہ لیں کہ یہ بھی ریڈر شپ میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ج3 ۔ ٹی وی نیوز چینلز نے ویسے تو مجموعی طور پر اخبارات کو منفی انداز میںمتاثر کیا اور قارئین کو سست اور ذہنی کاہل بنا کر پڑھنے کے عمل اور رجحان سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔ پھر بد قسمتی سے اخبارات کے مالکان ہی ٹی وی چینلز بھی کھول کر بیٹھ گئے اور اخبارات کے صحافیوں ، دانشوروں کو چینلز پر لے آئے۔ اِن پر کام کا دبا بڑھ گیا۔ ٹی وی آسان ہے اور زیادہ پیسے دیتا ہے۔ اخبارات میں لکھنا پڑتا ہے اور معاوضہ کم ہے نتیجہ سامنے ہے اور برا ہے۔
ج4 ۔ آزادی سے قبل ہمارے ہاں صحافت مشن ہوا کرتی تھی۔ 1980 کی دہائی تک مالکان اخبارات یہ کہنے لگے کہ صحافت پیشے کے اعتبار سے مشن ہے مگر شعبے کے لحاظ سے انڈسٹری ہے۔ پھر 80 کی دہائی کے دوران ہی اخباری صنعت کہا جانے لگا۔ اور سن دوہزار سے جب ٹی وی چینلز پرائیویٹ شعبے میں آزادی صحافت کے نعرے لگاتے آئے تو سب ہی پہلے بزنس کی طرف بھاگے۔ اشتھارات، انڈسٹری اور کارخانوں کے مالکان اور بینکوں کے مالکان دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اخبارات کے صفحات کی مقررہ تعداد ہوتی ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی اشتھار آتا ہے بڑے سے بڑے قومی اخبارات فرنٹ پیج تک پر قاری کی پرواہ کئے بغیر اشتھارات کو شائع کر دیتے ہیں۔
ج5 ۔ ظاہر ہے کہ صحافی مالی پریشانیوں اور سیکورٹی کے مسائل سے آزاد ہوگا تو اچھے اور آزادانہ ماحول میںمعیاری کام کرے گا۔ اور معیاری خبریں اور تبصرے قارئین کو ملیں گے۔ اس وقت عام صحافی کی تنخواہ کیا ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ پھر وہ اپنے اخراجات کیسے پورا کر تا ہے؟
ج6۔ نوے کی دہائی پوری دنیا میں ہر اعتبار سے اور ہر شعبے میں تیز رفتار تبدیلیوں کا آغاز تھی۔ جو اب زیادہ تیزی اختیار کر گئی ہے۔ بقول غالب۔ محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ اختصار پسندی اتنی بڑھی ہے کہ اب قاری صرف چند مختصر جملوں میں بات سننے، پڑھنے اور دیکھنے پر ہی آمادہ ہوتا ہے۔ اس سے ابلاغ کا بحران تو پیدا ہورہا ہے ۔مگر اس کے باوجود اخبارات کی ریڈر شپ ڈیجیٹل میڈیا نے قدرے کم کی ہے۔
ج7۔ جی ہاں۔ اس کے فائدے بھی ہیں اور کچھ نقصانات بھی۔ پہلے نقصانات پر نظر ڈالتے ہیں۔ آن لائن یعنی اسکرین پر پڑھنے سے نظر، گردن کے مہرے متاثر ہوتے ہیں۔ اور کوئی انسان اس پر طویل مضامین، تبصرے، تجزیئے پڑھنے سے گریز کرتا ہے۔اخبارات کی پرنٹنگ سے وابستہ روزگار کے مواقعوں میں کمی آئی ہے۔ فائدہ یہ ہے کہ آج کل اخبارکا ماہانہ بل500 روپے ہے ۔اب بہت سے لوگ گھر پر اخبارات بند کروا کر آن لائن اخبارات پڑھتے ہیں۔
ج8۔ بالکل درست ہے۔ اخبارات کے مالکان ہی نے نیوز چینلز بھی کھول رکھے ہیں۔ اگست2018 تک حکومتی پالیسیاں نیوز چینلز کے حق میں تھیں ۔پارٹی لیڈروں کا عوامی رابطہ زیادہ تر ٹی وی چینلز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیڈر جلسہ عام سے خطاب کر رہا ہے تو نیوز چینلز براہ راست دکھاتے ہیں۔ اخبارات میں تفصیلات اور تصاویر دوسرے دن آتی ہیں۔ لیکن اخبار محتاط ہوتا ہے ۔ اخلاقی اور تہذیبی اقدار کو مدنظر رکھتا ہے۔ مالکان بزنس چاہتے ہیں۔ یوں اِن کی اکثریت اخبارات کو خود نظر انداز کر رہی ہے۔ اس سے واقعی فکر و دانش، تحقیق اور نالج کے اعتبار سے تنوع اور معیار کو قومی سطح پر بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ آج اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد کی معلومات کی سطح پر شرمندگی ہوتی ہے۔ یہ ایک قومی نقصان ہے۔
ج9 ۔ اس وقت ضرورت ہے کہ خواندہ افراد کو مطالعے کی جانب راغب کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ علمی ادبی کتب سمیت اخبارات کے لیے کاغذ، روشنائی اور دیگر ایسے کیمیکل جو پریس میں استعمال ہوتے ہیں ان پر ہر طرح کی ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ جو اخبارات شائع کرتے ہیں وہ مالکان ٹی وی چینلز نہ چلائیں۔ اخبارات کو اشتھارات با قاعدگی سے دیئے جائیں۔ پریس کلبوں میں پرنٹ میڈیا سے متعلق صحافیوں کو زیاہ مراعات حاصل ہوں۔ اسکولوں کی سطح پر لیٹریری سوسائٹیوں ، بزم ادب اور ریڈرز کلبوں کے پرانے انداز کو مستحکم اور فعال کیا جائے۔ تمام اخبارات با قاعدگی سے بچوں، جوانوں اور خواتین کے کم ازکم ہفتہ وار ایڈیشن شائع کریں۔ سنڈے میگزین اور میڈویک میگزینوں میں بھی نئے لکھنے والوں کوشامل کیا جائے۔ ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر محنت کریں۔ نئے لکھنے والوں کی تحریروں کو درست کرکے شائع کرنے کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ اس طرح اخبارات کے قارئین میں سالانہ ہزاروں کا اضافہ ممکن ہے لیکن اس کے لیے مربوط انداز میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
محمد نواز طاہر

محمد نواز طاہر، سینئر صحافی ، لاہور۔
ج1 ۔ جی ہاں ، اخبارات کی ریڈر شپ میں اچھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے اور مزید ہورہی ہے۔
ج2 ۔ پوری طرح متفق ہوں ۔درست ہے کہ اخبارات غیر جانبدار نہیں ۔ جانبداری اخبارات کا نیا مسئلہ یا پالیسی نہیں ۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے۔ کئی اخبارات تھے اورہیں جو اعلانیہ طور پر ایک خاص نظریے کی نمائندگی کے دعویدار رہے۔ خاص نظریے کی نمائندگی کا اعلان کیے بغیر کسی خاص سوچ ، گروپ یا مفادات کی بنا پر کسی کی حمایت یا مخالفت اخبار کی غیرجانبداری پر دھبہ کہلاتی ہے اور اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے جس سے اس کے قارئین کی تعداد پر بھی اثر پڑتا ہے ۔ یہ قائین وہ ہیں جو خود بھی خاص سوچ اور وابستگی رکھتے ہیں لیکن عام قارئین اخبارات کی اس جانبداری کو پسند نہیں کرتے ۔
ج3۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اخبارات کی ریڈر شپ پر ٹی وی چینلز اثر انداز ہوئے ہیں ۔ یہ شرح کم از کم پینتیس فیصد ہے ۔ اس میں ان قارئین کی تعداد زیادہ ہے جو چلتے پھرتے ، سٹال ، حمام ، دوکان، تھڑے کی مجلس پر دوسروں کا خریدا ہوا اخبار پرھتے تھے اور ایک قلیل تعداد ان اخبار بینوں کی بھی ہے جو دوسروں کے گھر یا دوکان سے منگواکر پرھتے تھے یا لوگ اپنی دکان یا دفتر سے اخبار اٹھا کر گھر لے آتے تھے ۔اب ان کی ضرورت ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ نے پوری کردی ہے ۔ متبادل اور تیز رفتار ذرائع اطلاعات دستیاب ہونے سے دیہات میں اخبارکی ریڈر شپ بہت کم ہوئی ہے ۔ جہاں تک اخبارات کے معیار پر نیوز چینلز کے اثر انداز ہونے کی بات ہے تو بسا اوقات چینلز اور اخبارات کی خبر ایک سی ہوتی ہے حالانکہ چینل کی خبر میںزیادہ تفصیل ممکن نہیںلیکن پھر بھی اخبارات چینلز کی خبر پر ہی انحصار کرلیتے ہیں اور ماضی میں ضروری سمجھی جانے والی تفصیل اب غیر ضروری سمجھی جانے لگی ہے ۔ ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اب میڈیا ہاس کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جہاں اخبار کے ساتھ چینل بھی چل رہا ہے اور رپورٹنگ ٹیم ایک ہی ہے ۔اس لئے اخبار کا نمائندہ جو خبر چینل کے لئے بناتا ہے اس کی ایک کاپی اخبار کو بھی فراہم کرتا ہے۔ریڈیو ٹی وی کی مانیٹرنگ کا پرانا نظام بھی متاثر ہوا ہے ۔ اخبارات میں خبروں کے علاوہ مضامین ، فیچر اور دیگر مواد کا معیار گرا ہے اور اور تعداد بھی کم ہوئی ہے، خواتین اور بچوں کی اخبارات میں دلچسپی کم ہوئی ہے۔
ج4 ۔ اشتہار کے بغیر اخبار کی اشاعت برقراررکھنا ناممکن ہے کیونکہ اشتہارات اخبار کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ۔ صحافی کے لئے اشتہارات کے بجائے صحافتی مواد زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن اخبارات کی انتظامیہ کے لئے اشتہارات کی اہمیت ہے ۔ انتظامیہ کو خبر سے غرض ختم ہوگئی ہے اور صرف اشتہارات سے غرض رہ گئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ صحافتی اور تشہیری مواد کی شرح کا تعین نہ کرنا ہے۔ چونکہ قارئین کی طرح تشہیر کروانے والوں کا بھی اتنا ہی حق ہے اور میںدونوں کے حق کو تسلیم کرتا ہوں لیکن اخبارات کی موجودہ پوزیشن ماضی کے اخبارات کے صحافتی معیار سے بہت پیچھے چلی گئی ہے جو معاشر ے میں آگاہی پیدا کرنے کی کوششوں کے برعکس اور منفی عمل ہے۔ اب خبر کے بجائے اشتہار ہی ترجیح ہیں حالانکہ ترجیح خبر ہونی چاہئے ۔ اگر خبر ترجیح ہوتی تو کیا اخبارات میں ایڈیٹوریل سٹاف ( رپورٹر، سب ایڈیٹر، فوٹو گرافر ، کارٹونسٹ ) کوبڑے پیمانے پر بیروزگار کیا جاتا ؟ جتنی چھانٹیاں ہوئی ہیں ان میں شعبہ اشتہارات سے تو شائد پانچ فیصد بھی نہیں ہوئی۔
ج5 ۔ بلا شبہ یہ مسائل بھی ایک اہم وجہ ہیں۔ صحافی یا میڈیا کارکن کو ملک کے مروجہ قانون ( ویج ایوارڈ) کے تحت معاوضہ نہیں ملے گا ، یا بروقت تنخواہ ادا نہ کیے جانے کے موجودہ وقت میں جاری رجحان کے مطابق کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملے گی تو وہ تندہی سے اپنے فرائض کیسے انجام دے سکے گا ؟ بروقت اپنی ڈیوٹی کیسی یقینی بنائے گا ۔ یہ مسائل اخبارات کا معیار گرانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گھروں کی تباہی ، مہلک بیماریوں اور اموات کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جہاں تک سیکیورٹی کا مسئلہ ہے تو سب سے پہلا مسئلہ تو جاب سیکیورٹی ہے جو کسی ورکر کو حاصل نہیں ہے ۔انسانی زندگی کو درپیش سیکیورٹی کے حالات یقینی طور پر اثر انداز ہوئے ہیں جب کسی کارکن کو ملازمت کا تحفظ نہیں تو وہ اپنے آپ کو کس طرح خطرے میں ڈال کر اخبار کا معیار یقینی بنانے کے لئے اپنی زندگی دا پر لگائے گا ؟ سیکیورٹی کے مسائل دوسری صورت میں اخبارکے معیار پر اس طرح سے بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ کارکنوں کو کنفلیکٹ زون میں کام کرنے کی تربیت سے لے کر وہاں تک رسائی کے وسائل بھی فراہم نہیں کیے جاتے ، اخبارات کی انتظامیہ اخراجات بچانے کے لئے بھی ایسے علاقوں میں نمائندوں کو نہیں بھیجتی جس کی وجہ سے بنیادی تربیت نہ رکھنے یا بہت کم تربیت کے حامل علاقائی نمائندوں کی انفارمیشن پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔کئی کارکن پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوچکے ہیں ۔ایسے حالات بھی پیش آچکے ہیں کہ کارکن کی شہادت پر انتظامیہ نے اسے اپنا نمائندہ ماننے سے بھی ابتدائی طور پر انکار کیا۔ کئی شہداءکی اہل خانہ کو انتظامیہ کی طرف سے ماہانہ وظیفے کا اعلان کرکے خبر چھاپ دی گئی مگر وظیفہ یا تو دیا ہی نہیں گیا یا پھر تھوڑا عرصہ دینے کے بعد بھلا دیا گیا ۔ حادثات اور دھماکوں میں شہید ہونے والے کارکنوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا لیکن آفرین ہے کہ کارکنوں نے ان تمام حالات میں انتظامیہ اور ریاست کی طرف دیکھے بغیر بہتر سے بہتر خبریں فراہم کرنے کی کوشش جاری رکھی ۔ مختلف گروہوں ، گروپوں یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں سے بھی کارکنوں کو سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ان حالات میں معیار متاثر اور ریڈر شپ کم نہیں ہوگی تو کیا ہوگا ؟
 ج6 ۔ ڈیجیٹل میڈیا نے بھی اخبارات کی ریڈر شپ کو متاثر کیا ہے ۔لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ جو لوگ اخبار خرید کر پڑھتے تھے ۔اب انہیں انٹرنیٹ پر اخبار مل جاتا ہے تو اس کا اثر اخبار کی ریڈر شپ سے زیادہ اخبار کی فروخت پر پڑا ہے۔ اس وقت ملک میں کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی میں بھی شائد ہی کوئی اخبار ہوگا جس کا پرنٹنگ آرڈر پچاس ہزار ہوگا۔ لاہور میں اب یہ تعداد بیس ہزار سے سے اوپر نہیں رہی۔یہ اعدادو شمار اخبارمارکیٹ اور اخبارات کے پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیں جبکہ انتظامیہ کی طرف سے تو آج بھی ہزاروں اور لاکھ سے اوپر کی تعداد اشاعت کے دعوے کئے جاتے ہیں جو قطعی طور پر درست نہیں ۔ ڈیجیٹل میڈیا نے اخبارات کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اخبارات کے مالکان اور اخبار فروش یونین نے متفقہ فیصلے کے تحت خبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن ( ویب سائٹ) کی اپ ڈیٹنگ پانچ سے چھ گھنٹے لیٹ کروادی جس سے ان اخبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن کی ریڈر شپ بھی متاثر ہوئی ہے ۔ انٹرنیٹ پر اخبارات کے علاوہ غیر روائتی میڈیا نے بھی اخبارات کی ریڈر شپ اور ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ بہت سی ایسی خبریںجو اخبارات کسی نہ کسی وجہ سے شائع کرنے سے انکار کردیتے ہیں وہ غیر روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آنے سے قارئین کا اخبار پر اعتماد کم ہو جاتا ہے ۔
ج7 ۔ جی ہاں ۔ قارئین کی بڑی تعداد (جہاں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت دستیاب ہے) تیزی سے اس جانب راغب ہورہے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے خبر شائع ہونے پر اب اخبار دکھانے کے بجائے اس کا لنک دوسروں کو بھجوانے کا رحجان بڑھ گیا ہے ۔
ج8۔ جی ہاں ۔ یہ رجحان بڑھ گیا ہے جس نے صحافت، معاشرے اور اخبار سب کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ چینلز پر بیٹھے لوگ جو چاہے بول دیتے ہیں۔ لیکن اخبار میں ایسا نہیں ہوتا ۔اخبار میں اسی تجزیہ کار کو پذیرائی ملتی ہے جس کے ’پلے‘ کچھ ہوتا ہے ۔ اخبار میں مواد کی اشاعت کے لئے دستیاب وقت چینلز کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ج9 ۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ذاتی مفادات کو پیشے پر ترجیح نہ دیں ۔ پیشہ ورانہ ٹیم رکھیں ۔ اس ٹیم کو قانون کے مطابق جاب سیکیورٹی بروقت اجرت ادا کریں۔ دیانتداری سے کام کریں تو اخبارات کا معیار بھی بہتر ہوگا ریڈر شپ بھی بڑھے گی ۔معاشرے پر اس کے اثرات بھی مثبت ہونگے۔ ریاستی اداروں کو احتساب ، انصاف اور گورننس میں مدد ملے گی ۔
سہیل سانگی

سہیل سانگی، سینئر صحافی، حیدرآباد۔
ج1۔ جی ہاں اخبارات کی ریڈر شپ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن اس کی نصف درجن وجوہات ہیں۔ ٹی وی چینل اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ بزنس شفٹ ہو گیا ہے ۔ چینلز اور اخبارات کے مالکان و ہی ہیں ان کی توجہ شفٹ ہوئی ہے۔ اخبارات کا معیار وہ نہیں جو ٹی وی چینلز کا مقابلہ کرسکے۔ مجموعی طور پر سو سائٹی میں پڑھنے کا رجحان کم ہوا ہے۔
ج2 ۔ میڈیا کبھی بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ پیشہ وارانہ طور پر خبروں وغیرہ کو اس طرح رکھا جاتا ہے کہ غیر جانبدار نظر آئیں۔ اخبارات سے زیادہ چینلز جانبدار ہیں۔ جانبدار ہونا یقیناً ریڈر شپ کو متاثر کرتا ہے۔
ج3 ۔ اخبارات وہی خبریںدیتے ہیں جو نیوز چینلز دیتے ہیں۔ جو کچھ رہ جاتا ہے اور پس منظر اخبارات کے لیے رہ جاتا ہے۔ اخبارات وہ کور نہیں کرتے۔ اخبارات میں پیشہ وارانہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی ہے۔
ج4 ۔ جب سیاسی جماعتوں نے اپنے اخبارات نکالنا بند کر دیئے تب سے اخبارات کی ترجیح قاری نہیں اشتھار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ریڈر شپ ہوگی تو اشتھار ات ملیں گے۔ اب ہماری سو سائٹی میں بغیر معیار اور میرٹ کے اشتھار ملنا بھی عام سی بات ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے قاری کی اہمیت مزید کم ہو گئی ہے۔ نتیجتاً میڈیا کے بزنس ماڈلز بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔
ج5 ۔ مالی اور سیکورٹی کے مسائل اخبارات کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ اچھے صحافی جن کو تحفظ بھی حاصل ہو اچھا اخبار نکال سکتے ہیں۔ اچھے صحافیوں کی مالی ضروریات کا اتنا ہی خیال رکھنا پڑیگا۔
ج6 اور7 ۔ ڈیجیٹل میڈیا نے ابھی اتنا متا ثر نہیں کیا تا ہم یہ عمل جاری ہے۔ آئندہ ایک دو سال میں خاصے قاری پرنٹ سے آن لائن شفٹ ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ غیررسمی سوشل میڈیا نے متاثر کیا ہے ۔ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا خود ابھی ابتدائی شکل اور مرحلے میں ہے۔
ج8 ۔ اکثر چینل اور اخبارات کے مالکان ایک ہی ہیں اور ان کی توجہ شفٹ ہوئی ہے۔کیونکہ بزنس شفٹ ہو گیا ہے۔
ج9 ۔ اخبارات میں پیشہ وارانہ، تربیت یافتہ اور نئے ویژن والے افراد کو رکھنا پڑے گا۔ جو لکھنے کے نئے فارمیٹ دے سکیں۔ خود موضوعات کی تبدیلی اور ان کی ٹریٹمنٹ ، گہرائی تک جانا وغیرہ کے ذریعے ریڈر شپ کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
ناصرحسین

ناصر حسین، سینئر صحافی، پشاور۔
ج1 ۔ اس سے مکمل اتفاق ہے۔
ج2 ۔ کارپوریٹ کلچر میں اخبارات غیر جانبدار نہیں رہے۔ صحافت اب مشن یا کسی کاز کی بجائے بزنس بن چکی ہے ۔ اس صورتحال میں ریڈر شپ لا محالہ متاثر ہو رہی ہے۔
ج3۔ بریکنگ نیوز کے طوفان نے صحافتی اقدار کو پامال کیا ہے۔ کسی بھی چینل نے پہلے جیسی بھی خبر چلادی ناظرین کی ایک بڑی اکثریت اس پر یقین کر لیتی ہے۔ اگلے روز اخبار میں تفصیل اور جتنی سچائی کے ساتھ خبر شائع کی جائے۔ بہت کم لوگ اخبار کی خبر کو درست مانتے ہیں۔
ج4 ۔ اخبار کے لیے قاری اور اشتھار کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کسی بھی اخبار کی پہلی ترجیح اشتھارات ہیں کیونکہ اشتھار کے بغیر اخبار کے معیار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ۔ جبکہ قاری کو درست اور حقائق پر مبنی معلومات دینا اخبار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لہذا ان دونوں کو بیلنس رکھنے والے اخبارات ہی کامیاب قرار پاتے ہیں۔
ج5۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ فیکٹر ریڈر شپ کو متاثر کر رہا ہے۔
ج6 ۔ نئی نسل ڈیجیٹل میڈیا کی طرف بھرپور طور راغب ہے۔ پاکستان کی آدھی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ میرے خیال میں اخبارات کو وقت کے ساتھ اپنے اسٹائل کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
ج7 ۔ جی ہاں۔ وقت اور وسائل کی بچت اس کی بڑی وجہ ہے۔
ج8 ۔ افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ کراس میڈیا کی بدولت مالکان کی اکثریت چینلز پر وسائل زیادہ صرف کرتی ہے۔ جس سے براہ راست اخبار کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ اور سنجیدہ ریڈر شپ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر تی۔
ج9 ۔ اس کے لیے اخبار کو خصوصی تجزیوں، تبصروں، دن بھر چینلز پر چلنے والی خبر کو ایک نئے زاویئے سے قارئین تک پہنچانا، فالواپ پر توجہ دینا چاہیے اکثر چینلز ملکی اور عالمی سیاست پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اور بہت کم وقت علاقائی مسائل اور ایونٹس کو دیتے ہیں۔ لہذا اخبارات اپنے شہر، دیہات اور اردگرد کے علاقوں پر فوکس کریں تو ریڈر شپ کو متوجہ کیا جاسکتا ہے۔
شبیر میر

شبیر میر، سینئر صحافی، گلگت۔
ج1 ۔ جی ہاں پاکستان میں اخبارات کی ریڈر شپ میں کمی واقع ہوگئی ہے۔
ج2۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اخبارات غیر جانبدار نہیں رہے۔ یہ مختلف قسم کے دبا کا شکار رہتے ہیں۔ اور ان کی رپورٹنگ اس بات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کا ان پر اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔
ج3 ۔ نیوز چینلز نے اخبارات کی ریڈر شپ پر بہت اثر ڈالا ہے۔ کیونکہ نیوز چینلز سے اخبار کو فوری خبر پہنچ جاتی ہے۔ اور اگلے روز اخبارات میں چھپنے تک خبر پرانی ہو جاتی ہے۔
ج4 ۔ اتفاق ہے۔
ج5 ۔ صحافی کم تنخواہوں اور مالی پر یشانیوں کی وجہ سے پوری طرح اپنے کام پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے ہیں۔ اسی طرح سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بھی صحافی بہت زیادہ احتیاط اور محدود ہوکر کام کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے کام کا معیار گر جاتا ہے۔
ج6 ۔ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے خبروں کی ترسیل کا کام تیز ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے آن لائن نیوز سائٹس کے وزیٹر یا صارف بڑھ گئے ہیں۔ نتیجتاً اشتھار دینے والی کمپنیاں ان کو ترجیح دیتی ہیں۔ لہذا اخبارات میں اشتھار کم ہو گئے ہیں۔
ج7 ۔ موبائل اور کمپیوٹر ز وغیرہ کی وجہ سے قارئین کی ایک بہت بڑی تعداد اب اخبارات کی نسبت آن لائن نیوز پڑھنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ج8 ۔ مالکان کی یقینا توجہ کے مرکز اب چینل ہو گئے ہیں۔ جن میں ان کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے مواقع موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ا خبارات میں موجود ملازمین کو تنخواہ ٹی وی چینلز کے ملازمین کی نسبت کم دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اخبارات زوال پذیر ہیں۔
ج9 ۔ جب تک اخبار میں چھپنے والی خبریں اور آرٹیکلز وغیرہ کا معیار بہتر نہیں بنایا جاتا اور غیر جانبداری کو یقینی نہیں بنایا جاتا ہے ۔ تب تک اخبارات کا دوبارہ قارئین کی توجہ کا مرکز بننا ممکن نہیں۔
جاوید نور

جاوید نور، سینئر صحافی ، اسلام آباد۔
ج1۔ پاکستان میں اخبار بینی میں بالکل کمی آئی ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں۔اخبار بینی میں کمی کے سبب ہی قومی اور علاقائی اخبارات کی اشاعت میں تیزی سے کمی آئی ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اخبارات خرید کر پڑھنے کے رجحان میں بھی کمی آئی ہے اور لوگ اس بات کو ترجیح دینے لگے ہیں کہ آن لائن اخبارات کا مطالعہ کر لیا جائے مگر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے پاس اخبار بینی کے علاوہ معلومات کے حصول کے دیگر ذرائع بھی دستیاب ہیں اور وہ انہیں ترجیح دینے لگے ہیں جن میں خبروں کے فوری حصول کے لیے واٹس ایپ اور ٹویٹر شامل ہیں۔
 ج2 ۔ آج انٹرنیٹ کا دور ہے جس میں خبروں کے حصول کے کئی ذرائع دستیاب ہیں مگر اطلاع ملنا اور اس کا مستند ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ قارئین اخبارات کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ اس میں شامل خبریں مستند ہوتی ہیں اور ان کی حصول واشاعت میں غیر جانبداری برتی جاتی ہے مگر اب اس رجحان میں تبدیلی آتی دکھائی دے رہی ہے اور بعض خبروں میں اخبارات کا جھکاؤ دکھائی دیتا ہے یا خبر توڑ مروڑ کر پیش کی جاتی ہے یا پھر ایک فریق کا موقف پوری طرح شامل نہیں کیا جاتا اور اس موقف کے حصول میں پوری مستعدی نہیں دکھائی جاتی۔ ماضی میں بھی ایسے اخبارات شائع ہوتے رہے ہیں جو کسی خاص نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے تھے مگر انہیں قبول عام حاصل نہیں ہوسکا کیونکہ عوام مستند و غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کو پسند کرتے ہیں جن میں خبر کا کوئی پہلو پوشیدہ یا تشنہ نہ ہو اور جہاں ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے وہ ایسے اخبارات سے بددل ہو جاتے ہیں۔غیر جانبداری نہ برتنے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ جن میں سرخی میں من پسند موقف کو زیادہ واضح کرنا،خبر کو سنگل کالم لگانا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، اندرونی صفحات میں لگا کر اثر کم کر دینا یا ایک فریق کے موقف کو زیادہ اور دوسرے کو کم جگہ دینا وغیرہ شامل ہے۔بعض اخبارات کے غیرجانبدار نہ ہونے کی وجوہات میں مفادات کا حصول دباوؤیا دیگر عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔
 ج3۔ دنیا بھر میں نیوز چینلز سمیت ابلاغ کے جدید ذرائع نے اخبارات کی اشاعت اورریڈرشپ کو متاثر کیا ہے۔ہر شخص بروقت خبر جاننا چاہتا ہے۔چینل واقعہ رونما ہوتا ہوا دکھاتے ہیں جبکہ اخبارات میں وہ خبر اگلی روز شائع ہوتی ہے۔ریڈرشپ کی کمی کا ایک سبب نیوز چینلز ہیں مگر یہ واحد وجہ نہیں ہے۔کیونکہ سوشل میڈیا نے تو نیوز چینلز دیکھنے کے رجحان کو بھی محدود کردیا ہے۔
 ج4۔ ماضی میں صحافت ایک مشن تھا جس کے لیے صحافیوں اور اخباری مالکان نے قربانیاں دیں مگر اب یہ مکمل طور پر کاروبار بن چکا ہے۔اسی لیے اکثر اہم خبروں کی جگہ اشتہارات لے لیتے ہیں۔
ج5 ۔ صحافیوں کی تنخواہوں میں کٹوتی، مہنگائی، اخبارات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ نہ ملنا،کئی کئی ماہ تنخواہوں سے محرومی، اداروں میں چھانٹیاں ، مالکان کے مفادات سے متصادم خبروں کی اشاعت روکنا ،مختلف حلقوں کا دباوؤاور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساس عدم تحفظ کے سبب بھی صحافیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اس کا براہ راست اثر ریڈرشپ کی کمی پر منتج ہوتا ہے۔
 ج6۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں اخبارات کی ریڈرشپ کو متاثر کیا ہے۔
ج7۔ کاغذ پر چھپنے والے اخبارات کی بجائے قارئین کی آن لائن ایڈیشن پر منتقلی عالمی رجحان ہے جو دنیا میں بڑے بڑے اخبارات کی بندش کا سبب بنا ہے۔ پاکستان میں آن لائن اخبارات مفت دستیاب ہیں جب کہ بڑھتے معاشی مسائل کے سبب بھی لوگ اخبار خرید کر پڑھنا ترک کرتے جارہے ہیں۔بزرگوں کی نسل اب بھی اخبارات خرید کر پڑھتی ہے مگر جلد ہی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اخبارات کی کاغذ پر اشاعت ختم ہوجائے گی اور صرف آن لائن ایڈیشنز ہی دستیاب ہوں گے۔
ج8۔ یہ بات بالکل درست ہے۔
 ج9۔ تحریر کی افادیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔اخبارات اطلاعات تک رسائی کا اہم ذریعہ ہیں۔صحافیوں کے معاشی حالات کی بہتری،مفادات کا تحفظ،بہتر اجرت، معاشی تحفظ ،غیر جانبداری کو یقینی بنانے، ہر طرح کے دباؤاور مفادات سے آزادی دے کر اخبار بینی کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔